بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

غیرشرعی‌لباس‌سینا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

زید درزی کا کام کرتا ہے، اس کے پاس زنانہ، مردانہ کپڑے سینے کے لئے آتے ہیں، موجودہ دور کے مطابق اسے گاہک کی فرمائش کے مطابق ڈیزائن بناکر دینا پڑتا ہے، مثلاً زنانہ لباس تنگ، مردانہ پینٹ، پتلون، قمیص کالر والی وغیرہ تو کیا اس میں کاریگر، بنادینے کی وجہ سے گاہک کے ساتھ گناہگار ہوگا یا نہیں؟

جواب:۔

ایسے لباس کا تیار کرنا جس سے مرد یا عورت کے اعضائے مستورہ کی کیفیات (اُونچ نیچ) نظر آتی ہوں، صحیح نہیں۔(۱) کاریگر پر پہننے کا اور تیار کرنے کا گناہ نہیں ہوگا، لیکن اعانت کرنے کا گناہ ہوگا۔(۲) اس لئے بہتر ہے کہ ایسے لباس تیار کرنے سے احتراز کیا جائے، لوگوں سے جھگڑے اور اعتراض سے بچنے کے لئے دُکان میں لکھ دیا جائے کہ غیرشرعی لباس یہاں تیار نہیں ہوتا۔

  1. (۱) وھٰذا کلہ إذا کان الثوب صفیقًا لَا یصف ما تحتہ فإن کان رقیقًا یصف ما تحتہ لَا یجوز لأن عورتہ مکشوفۃ من حیث المعنٰی، قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لعن اللہ الکاسیات العاریات۔ (البدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۱۹، طبع سعید)۔
  2. (۲) ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞیعنی لَا تعاونوا علٰی إرتکاب المنھیات ولَا علی الظلم۔ (تفسیر مظھری ج:۳ ص:۱۹، طبع مکتبہ اشاعت العلوم دھلی)۔