بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

چوڑیوں‌کا‌کاروبار‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

چوڑیوں کا کاروبار کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ آج کل چوڑیوں کا کام فیشن میں شامل ہے اور دُکان پر لیڈیز اگر خریدتی ہیں اور پہنتی بھی ہیں، مردوں سے عورتوں کا چوڑیاں پہننا ٹھیک تو نہیں ہے، مگر اس وقت ذہن بالکل پاک ماحول میں ہوتا ہے جب انسان اپنی روزی پر کھڑا ہوتا ہے، اس کا ذہن گندے خیالات کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ کیا اس لحاظ سے یہ کام کرنا دُرست ہے یا نہیں؟ اگر لیڈیز اپنا سائز دے کر چوڑیاں خرید لیں پھر یہ کام کیسا ہے؟ ان سے آدمی لین دین کرسکتا ہے یا نہیں؟ مجھے اُمید ہے کہ آپ اس پورے سوال کا جواب دے کر مجھے مطمئن کردیں گے۔ میری خود کی چوڑیوں کی دُکان ہے، نماز بھی پڑھتا ہوں، کیا اس کام کی کمائی حلال ہے؟ اس کام کی آمدنی سے انسان زکوٰۃ، خیرات دے سکتا ہے؟ قبول ہوگی یا نہیں؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب:۔

چوڑیوں کا فروخت کرنا تو جائز ہے،(۱) لیکن نامحرَم عورتوں کو چوڑیاں پہنانا جائز نہیں۔(۲) دِل اور ماحول خواہ کیسا ہی پاک ہو، یہ فعل حرام ہے۔ اگر عورت اپنے سائز کی چوڑیاں دے جائے اور آپ اس سائز کی بناکر ان کے حوالے کردیں تو یہ جائز ہے۔

  1. (۱) قال العلامۃ العثمانی رحمہ اللہ تعالٰی: یجوز للنساء لبس أنواع الحلی کلھا من الذھب والفضۃ والخاتم والحلقۃ والسوار والخلخال والطوق والعقد والتعاویذ والقلائد وغیرھا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۷ ص:۲۹۳)۔
  2. (۲) ولَا یحل لہ أن یمس وجھھا ولَا کفھا وإن کان یأمن الشھوۃ وھٰذا إذا کانت شابۃ تشتھی ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۲۹، کتاب الکراھیۃ، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔