معاملات
پرائیچیزمالککولوٹاناضروریہے
سوال:۔
آج سے کئی سال قبل میرے ایک عزیز جو کہ اسلامی ملک سے تشریف لائے تھے لہٰذا وہ اپنے ساتھ سامان وغیرہ بھی لائے، اس سامان میں ایک چیز ایسی بھی تھی جس کو دِکھانے کی غرض سے میں اپنے گھر لے گیا، لیکن اتفاق کی بات ہے کہ فوراً ہی ہمارے درمیان اختلافات نے جنم لیا جو کہ جاری ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ جن صاحب سے میں نے یہ چیز لی تھی انہوں نے مجھ پر الزام تراشی کی، جبکہ میری نیت بالکل صاف تھی اور ہے۔ اور ان کی یہ چیز ابھی تک ویسے ہی پڑی ہے جیسا کہ آج سے تقریباً ۸، ۹ سال قبل میں نے ان سے لی تھی۔ محض ان کی الزام تراشی اور اپنے غصّے کی حالت میں (جبکہ غصہ حرام ہے) میں انہیں ان کی چیز واپس نہیں کرسکا (اللہ معاف کرے)، نہ ہی اس چیز کے بارے میں، میں نے کسی کو بتایا اور نہ کسی کو دِکھایا۔ اب یہ بوجھ اُٹھایا نہیں جاتا، میں چاہتا ہوں کہ اسے کہیں صرف کردُوں جبکہ میری خواہش ہے کہ اس کی قیمت غریبوں میں ادا کرکے اپنے پاس رکھ لوں، کیا ایسا ممکن ہے؟ یا پھر یہ چیز کسی کو دے دُوں، یا پھر کسی اسلامی جگہ پر رکھ دُوں، (لیکن میں اس عمل کو بہتر نہیں سمجھتا جبکہ میں جانتا ہوں کہ جس کا جو مال، حق ہو، اسے ہی ملنا چاہئے)، لیکن مجبوری یہ ہے کہ اب میں اس شخص کو یہ چیز واپس نہیں کرسکتا۔ وجہ یہ ہے کہ اب وہ ہم سے کہیں دُور رہتا ہے۔ دُوسرا یہ کہ اگر میں انہیں ان کی چیز واپس کردُوں تو یہ میری بدنامی کا باعث بنتی ہے، اور پھر نہ جانے مجھے کتنے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا میں اس عمل سے بچنا چاہتا ہوں۔ اب آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسا حل بتادیں کہ میں شرمندگی سے بچ جاؤں، جبکہ اس کی چیز اب اس تک نہیں پہنچ سکتی۔
جواب:۔
اس چیز کا نہ صدقہ کرنا جائز ہے، نہ خود اس کا استعمال کرنا ہی جائز ہے، اس کو مالک کے پاس لوٹانا فرض ہے۔(۱) اگر یہاں کی ذِلت و بدنامی گوارا نہیں تو قیامت کے دن کی ذِلت و بدنامی اور اس کے بدلے میں اپنی نیکیاں دینے کے لئے تیار رہئے۔(۲)
- (۱) ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا ﵞ النساء ٥٨۔ عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أد الأمانۃ إلٰی من أئتمنک ولَا تخن من خانک۔ (أبوداوٗد ج:۲ ص:۱۴۲، کتاب البیوع، طبع إمدادیہ)۔
- (۲) وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: رحم اللہ عبدًا کانت لأخیہ عندہ مظلمۃ فی عرض أو مال فجائہ فاستحلہ قبل أن یؤخذ فلیس ثم دینار ولَا درھم، فإن کانت لہ حسنات أخذ من حسناتہ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۶۷، أبواب صفۃ القیامۃ)۔

