معاملات
مالککیاجازتکےبغیرچیزاِستعمالکرنا
سوال:۔
عرض یہ ہے کہ ہمارا پیشہ دھوبی کا ہے، کسی کا کپڑا اس کی اجازت کے بغیر نہیں پہن سکتے، یہ بات ہر آدمی جانتا ہے، مگر ہمارے کاروبار میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی صاحب پر زیادہ پیسے (اُدھار) ہوگئے ہوں تو وہ اپنے کپڑے چھوڑ دیتے ہیں اور دوبارہ نہیں آتے، جس کی وجہ سے ہمارے پیسے رُک جاتے ہیں، تین مہینے کے بعد ہماری ذمہ داری ان کپڑوں پر سے ختم ہوجاتی ہے، ان تین مہینوں کے بعد کیا ہم ان کپڑوں کو پہن سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔
کپڑوں کے مالکوں کا تو آپ کو معلوم ہوتا ہے، پھر ان مالکوں تک کیوں نہیں پہنچاسکتے؟ اگر مالک کا پتا نہ ہو تو تین ماہ کے بعد وہ لقطے کے حکم میں ہے، لہٰذا مالک کی طرف سے صدقہ کردیں اور نیت یہ رکھیں کہ اگر مالک آگیا تو اس کو قیمت دے دُوں گا،(۱) اگر آپ مستحق ہیں تو خود بھی رکھ سکتے ہیں۔(۲)
- (۱) قال فإن جاء صاحبھا وإلّا تصدق بھا إیصالًا للحق إلی المستحق وھو واجب بقدر الْإمکان وذالک بإیصال عینھا عن الظفر بصاحبھا وإیصال العوض وھو الثوب علٰی إعتبار إجازتہ التصدق بھا وإن شاء أمسکھا رجاء الظفر بصاحبھا۔ قال فإن جاء صاحبھا بعد ما تصدق بھا فھو بالخیار إن شاء أمضی الصدقۃ ولہ ثوابھا لأن التصدق وإن حصل بإذن الشرع لم یحصل بإذنہ فیتوقف علٰی إجازتہ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۵، کتاب اللقطۃ)۔
- (۲) قال فی التنویر: فینتفع الرافع بھا لو فقیرًا وإلّا تصدق بھا علٰی فقیر ولو علٰی أھلہ وفرعہ وعرسہ۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۲۷۹، کتاب اللقطۃ)۔

