بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

جعلی‌کارڈ‌اِستعمال‌کرنا

سوال:۔

آج کل کالج کے کارڈ جو ’’کے ٹی سی‘‘ نے جاری کئے ہیں، وہ جعلی بنتے ہیں، ایسے کارڈ سے اصل کرائے کے جو پیسے بچتے ہیں وہ استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب:۔

جعلی کارڈ کا استعمال گناہِ کبیرہ ہے اور یہ بددیانتی اور خیانت کے زُمرے میں آئے گا۔(۱)

اسی طرح بعض لوگ ان کارڈوں کے ذریعہ ریل میں رعایتی ٹکٹ استعمال کرتے ہیں، یہ بھی گناہ ہے، جو اس قسم کی حرکت کا ارتکاب کرچکے ہیں ان کو چاہئے کہ اس کے بدلے صدقہ کردیں تاکہ بددیانتی کا گناہ معاف ہو۔(۲)

اور اِمداد الفتاویٰ میں ہے: ’’زید کو یہ دیکھنا چاہئے کہ میرے ذمہ کتنا کرایہ واجب ہے؟ اس قدر داموں کا ایک ٹکٹ اسی ریلوے کا خرید کر اس ٹکٹ کو ضائع کردے، اس سے کام نہ لے۔‘‘ (امداد الفتاویٰ ج:۳ ص:۴۴۵، طبع مکتبہ دارالعلوم)۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المسلم أخو المسلم، لَا یخونہ، ولَا یکذبہ، ولَا یخذلہ، کل المسلم علی المسلم حرام عِرْضُہٗ ومالہٗ ودمہٗ ۔۔۔إلخ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۴)۔ أیضًا: عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: آیۃ المنافق ثلاث ۔۔۔ إذا حدّث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷)۔ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨۔ وفی أحکام القرآن للجصاص (ج:۱ ص:۲۵۰) وأکل المال بالباطل علٰی وجھین أحدھما أخذہ علٰی وجہ الظلم والسرقۃ والخیانۃ والغصب وما جریٰ مجراہ۔
  2. (۲) سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علٰی صاحبہ۔ (شامی ج:۶ ص:۳۸۵)۔ وفی الھدایۃ: قال فإن جاء صاحبھا وإلّا تصدق بھا إیصالًا للحق إلی المستحق وھو واجب بقدر الْإمکان۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۴)۔