معاملات
بسکنڈیکٹرکاٹکٹنہدینا
سوال:۔
میں ایک ملازم آدمی ہوں، روزانہ کوٹری سے حیدرآباد آنا جانا ہوتا ہے، پبلک بس نہ ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ بس میں سفر کرنا پڑتا ہے، جس میں چار جگہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ’’خدا دیکھ رہا ہے، کرایہ دے کر ٹکٹ ضرور حاصل کریں‘‘ لیکن کنڈیکٹر ٹکٹ نہیں دیتے، کئی دفعہ منہ ماری کے بعد اَب خاموش ہونے پر مجبور ہوں، کیا ہمارے لئے اس میں گناہ ہے؟ ہم پیسے تو دیتے ہیں مگر وہ کنڈیکٹر کی جیب میں آتے ہیں، گورنمنٹ کے خزانے میں نہیں۔
جواب:۔
آپ ان کے افسرِ اعلیٰ سے اس کی شکایت کریں، اس کے بعد بھی اگر آپ کی شکایت پر توجہ نہیں کی جاتی تو آپ عنداللہ بری الذمہ ہیں۔

