بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

فارم‌اے‌کی‌فروخت‌شرعاً‌کیسی‌ہے؟

سوال:۔

میں حال ہی میں سعودی عرب سے واپس آیا ہوں، وہاں پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے ہمیں ایک سہولت یہ ہے کہ جس کو بھی وہاں پر دو سال کا عرصہ گزر جاتا ہے اس کو گفٹ اسکیم مل جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہوتا یہ ہے کہ آپ اپنے خاندان کے کسی فرد کو ایک گاڑی گفٹ کرسکتے ہیں، اس کے لئے ایک فارم جس میں یہ لکھنا ہوتا ہے کہ کتنا عرصہ آپ کو یہاں ہوا ہے اور کس کے نام گاڑی بھیج رہے ہیں، پھر سفارت خانے سے تصدیق کروانی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ تو گاڑی بک کرواکر پاکستان گاڑی پہنچنے پر اس کو فروخت کردیتے ہیں اور اکثریت یہ کرتی ہے کہ اس فارم کو پاکستان میں بیچ دیتے ہیں اور میرا بھی فارم بیچنے کا ارادہ ہے، تو دراصل میرے پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ فارم بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے حاصل شدہ رقم جائز ہے کہ ناجائز؟ اگر رقم ناجائز ہے تو کیا میں فارم کو ضائع کردوں یا اس سے ملنے والی رقم کو کہیں اور خرچ کروں؟

جواب:۔

اس فارم کی حیثیت اجازت نامے کی ہے، اور اجازت نامہ قابلِ فروخت چیز نہیں، اس لئے اس کی خرید و فروخت صحیح نہیں۔(۱)

  1. (۱) لَا یجوز الْإعتیاض عن الحقوق المجردۃ عن الملک قال فی البدائع الحقوق المفردۃ لَا تحتمل التملیک ولَا یجوز الصلح عنہا۔ (شامی ج:۴ ص:۵۱۸، کتاب البیوع)۔