معاملات
گورنمنٹکےمحکموںمیںچوریشخصیچوریسےبدترہے
سوال:۔
تقریباً دو سال پہلے میرے بڑے بھائی اور میرے والد مرحوم نے بجلی چوری کرنے کا طریقہ اپنایا تھا، جو اَبھی جاری ہے۔ کہتے ہیں کہ جو شخص دُنیا میں کوئی اچھا عمل یا بُرا عمل چھوڑ جاتا ہے اس کو مرنے کے بعد بھی قبر میں اس کا بدلہ ملتا رہتا ہے، کہتے ہیں کہ جب تک بُرا عمل دُنیا میں ہوتا رہے گا اس کا گناہ مرحوم اور جو اُن کا ساتھی ہوگا اسے ملتا رہے گا۔ بجلی کیونکہ ایک قومی ادارہ ہے، یہ ایک قوم کی امانت ہے اور اسی طرح ٹیلی فون، ٹیکس کی چوری وغیرہ جو بھی چوری کرتا ہے یا مدد کرتا ہے، کہتے ہیں کہ قیامت کے روز اس کا بدلہ اعمال کی کرنسی سے لیا جائے گا، یعنی اعمال لے لئے جائیں گے۔ ہمارے یہاں جو بجلی چوری ہوتی ہے اس لحاظ سے ہم اس بجلی کے استعمال سے جو نیک عمل یا عبادت اس کی روشنی میں کریں گے یقینا وہ قابلِ قبول نہیں ہوگی، کیونکہ چوری کرنا حرام ہے، اور حرام چیز استعمال کرکے نیک کام کرے تو وہ بھی یقینا قبول نہیں ہوگا۔ مولانا صاحب! یہ سوال جو میں نے کیا ہے اور اس سوال میں جو میں نے اپنے خیالات کا بھی اظہار کیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں؟ اس کا جواب دیں۔ ہمارے دُوسرے ایسے مسلمان بھائیوں کو بھی معلوم ہوجائے کہ گورنمنٹ کے مال کی چوری کا بھی اللہ کے یہاں نیکیوں کے بدلے سے چوری کا خسارہ پورا کیا جائے گا، ہوسکے تو ایسے لوگوں کا انجام حدیث سے ثابت فرمائیے۔
جواب:۔
آپ کے خیالات صحیح ہیں، گو تعبیرات صحیح نہیں۔ جس طرح شخصی املاک کی چوری گناہ ہے، اسی طرح قومی املاک میں چوری بھی گناہ ہے، بلکہ بعض اعتبارات سے یہ چوری زیادہ سنگین ہے، کیونکہ ایک آدمی سے تو معاف کرانا بھی ممکن ہے اور پوری قوم سے معاف کرانے کی کوئی صورت ہی نہیں۔(۱)
- (۱) وقسم یحتاج إلی التراد وھو حق الآدمی والتراد ما فی الدنیا بالْإستحلال أو رد العین أو بدلہ وأما فی الآخرۃ برد ثواب الظالم للمظلوم أو إیقاع سیئۃ المظلوم علی الظالم أو انہ تعالٰی یرضیہ بفضلہ وکرمہ۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۱۰۲، باب الکبائر)۔

