بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

چوری‌کی‌ہوئی‌سرکاری‌دوائیوں‌کا‌بدلہ‌کیسے‌اُتاروں؟

سوال:۔

زید ایک ڈسپنسر ہے، کافی عرصہ پہلے وہ حکومت کی دوائیاں چوری کرکے فروخت کرتا رہا، یعنی اگر ایک چیز کی قیمت ۱۰۰روپے ہوتی تھی تو بازار جاکر ۵۰ یا ۴۰ روپے پر فروخت کرتا تھا۔ اچانک اللہ کا خوف زید کے دِل میں پڑگیا، زید نے توبہ کی، اس بات کو سات سال گزر گئے، اس کے بعد سے اب تک کوئی دوائی فروخت نہیں کی۔ زید تبلیغ میں بھی جاتا رہتا ہے، پانچ وقت کا نمازی بھی ہے، صبح اور شام ذِکر اَذکار بھی کرتا رہتا ہے۔ زید کے دِل میں اب بھی وہی دوائیوں کا مسئلہ کھٹکتا رہتا ہے، کیونکہ زید کو پتا ہے کہ حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک بندہ معاف نہ کردے۔ زید کو یہ بھی نہیں پتا کہ میں نے کتنے کی دوائیاں فروخت کی ہیں؟ اگر زید اپنے ذہن کے مطابق تخمینہ لگالے کہ اتنے پیسے کی دوائیاں میں نے فروخت کی ہوں گی، پوچھنا یہ ہے کہ زید اپنے ذہن کے مطابق حساب لگاکر یہ پیسہ کہاں جمع کرائے؟ کیونکہ حکومتِ پاکستان کے عہدے داروں پر زید کو یقین نہیں ہے کہ ان پیسوں سے وہ دوائیاں خرید کر مریضوں کو دے دیں گے۔

جواب:۔

اللہ تعالیٰ کا شکر اَدا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سمجھ عطا فرمائی اور اپنے گناہوں کی تلافی کا ذِکر فرمایا۔ آپ ایسا کریں کہ جتنی دوائیں آپ نے گورنمنٹ کی فروخت کی ہیں، اس کا حساب لگالیں، اور تھوڑا تھوڑا کرکے ضرورت مند مریضوں کو اتنے پیسے دے دیا کریں۔(۱)

  1. (۱) لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علٰی صاحبہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۳۸۵، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔