معاملات
ملازمکےلئےسرکاریاشیاءکاذاتیاِستعمالجائزنہیں
سوال:۔
میں ایک سرکاری کمپنی میں نوکری کرتا ہوں، دفتر میں سرکاری کام کے لئے ٹیلیفون کی سہولت موجود ہے، اس کے علاوہ گاڑی کی بھی سہولت موجود ہے جو کہ سرکاری کام سے اِدھر اُدھر جاتی ہے، پوچھنا جناب سے یہ ہے کہ کیا کوئی فرد یا میں خود سرکاری ٹیلیفون یا گاڑی کو اپنے ذاتی کام کے لئے اِستعمال کرسکتا ہوں؟ مثلاً میں روزنہ اپنے گھر بیوی بچوں کو ٹیلیفون کرتا ہوں، یا گاڑی اِستعمال کرتا ہوں، رشتہ دار، عزیز کو ٹیلیفون کرتا ہوں۔ جس کمپنی میں کام کرتا ہوں وہ ہمارے شہر سے کافی دُور ہے، یعنی دُوسرے شہر میں ہے، جہاں روزانہ صبح وشام آنا جانا ممکن نہیں ہے، کمپنی نے ہم لوگوں کے رہنے کے لئے کالونی بنائی ہوئی ہے، جناب سے پوچھنا یہ ہے کہ برائے مہربانی یہ بتائیے کہ اس طرح سے سرکاری چیزوں کا اِستعمال کیا جائز ہے؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔
جواب:۔
سرکاری چیزیں جیسی ٹیلیفون، گاڑی یا دُوسری چیزیں یہ سرکاری کاموں کے لئے ہوتی ہیں، ذاتی اِستعمال کے لئے نہیں ہوتیں، اگر گورنمنٹ کی طرف سے کسی شخص کو ذاتی اِستعمال کی اجازت ہو تب تو ٹھیک ہے، ورنہ اپنے ذاتی اِستعمال کے لئے ان کو کام میں لانا جائز نہیں۔(۱) قیامت کے دن اس کا بھی حساب وکتاب ہوگا۔
- (۱) لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ أو وکالۃً منہ أو ولَایۃً علیہ، وإن فعل کان ضامنًا۔ (شرح المجلۃ ص:۶۱، رقم المادّۃ:۹۶)۔ لَا یجوز تصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ ولَا ولَایتہٖ۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۲۰۰ کتاب الغصب، طبع سعید)۔

