معاملات
سرکاریرقمکابےجااِستعمالجائزنہیں
سوال:۔
زید ایک دفتر میں ملازم ہے، اس کے آفیسر مجاز نے اسے ایک چیز بازار سے خریدنے کے لئے سو روپے دے دئیے، جبکہ اس چیز کی بازاری قیمت سو روپے ہی ہے، لیکن وہی چیز زید کو ۲۰روپے میں مل جاتی ہے، اب یہ چیز سرکاری کھاتے میں سو روپے کی ظاہر کی گئی ہے، اور زید نے سو روپے کی سرکاری رسید پر دستخط بھی کردئیے اور آفیسر مجاز کو ۲۰روپے والی قیمت نہیں بتائی گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ زید یہ بقیہ ۸۰روپے اپنے ذاتی اِستعمال میں لاسکتا ہے یا یہ ۸۰روپے آفیسر مجاز کو واپس کردے؟ جبکہ آفیسر مجاز اسے ذاتی اِستعمال میں لائے گا اور یہ بات اس وجہ سے ظاہر ہے کہ رسید میں ۱۰۰روپے ہی کی قیمت ظاہر کردی گئی اور آفیسر مجاز نے اس پر دستخط بھی کردئیے۔ یا بغیر صدقے کی نیت سے یہ رقم کسی ضرورت مند یا دِینی طالب علم کو یا کسی دِینی اِدارے کے حوالے کرسکتا ہے؟ جوابِ شافی سے مستفید فرمائیں۔
جواب:۔
افسرِ مجاز نے اس کو وہ چیز لانے کے لئے حکم کیا، وہ چیز ۲۰روپے کی مل گئی تو اس کو ۲۰روپے کی رسید کٹانی چاہئے تھی، اور ۲۰روپے ہی بتانے چاہئے تھے۔ زید کا ۲۰کے بجائے ۱۰۰وصول کرنا بدعہدی اور خیانت ہے، اب اس کا حل یہ نہیں کہ وہ زائد رقم کسی غریب مسکین کو دے دے یا کسی طالب علم کو دے دے، کیونکہ وہ رقم گورنمنٹ کی ہے اس لئے کوئی ایسی تدبیر کرے کہ اسّی روپے گورنمنٹ کو واپس ہوجائیں، مثال کے طور پر آئندہ اگر گورنمنٹ کے لئے کوئی چیز خریدی جائے تو ۱۰۰روپے کی چیز کے ۲۰روپے لے، یا اسی طرح کوئی اور صورت آپ سوچ سکتے ہیں۔ بہرحال گورنمنٹ کا روپیہ نہ تو آپ کے لئے جائز ہے نہ آپ کے افسر کے لئے جائز ہے۔(۱)
- (۱) گزشتہ حاشیہ: ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا ﵞ النساء ٥٨۔ أیضًا: لَا یجوز لأحد أن ... وحاشیہ: قَالَ تَعَالَىﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ(قولہ بالباطل) بالحرام یعنی بالربا والقمار ...الخ

