بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

سرکاری‌بجٹ‌سے‌بچی‌ہوئی‌رقم‌کا‌کیا‌کریں؟

سوال:۔

زید ایک دفتر میں سرکاری ملازم ہے، اس دفتر کو سرکاری طور پر مثلاً ایک لاکھ روپے سالانہ بجٹ دفتری اِخراجات کے لئے ملتا ہے، جن میں دس ہزار روپے مثلاً دفتری ملازمین کے سفری اِخراجات کے لئے مخصوص ہیں۔ پورا سال گزرا لیکن اس مد میں کوئی خرچہ نہیں ہوا، سال کے آخر میں آفیسر مجاز اس رقم کو بغیر اِستحقاق کے اپنے یا دفتر کے کسی ملازم کو دیتا ہے تو کیا زید بھی یہ رقم بغیر اِستحقاق کے وصول کرے؟ جبکہ حکومت کو یہ رقم واپس سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائی جاتی، یا بغیر نیت کے کسی ضرورت مند یا دِینی اِدارے کو دے؟ یا آفیسر مجاز کے لئے چھوڑ دے؟ یا زید یہ رقم خود اِستعمال کرے؟ جوابات جلد ازجلد اِرسال فرماکر ممنون فرمائیں۔

جواب:۔

گورنمنٹ نے وہ رقم اِخراجات کے لئے دی ہے، اگر اِخراجات ہی نہیں ہوئے تو نہ اس کو آپ اِستعمال کرسکتے ہیں نہ آپ کا افسرِ مجاز۔ کیا آپ کی عقل میں یہ بات آئے گی کہ وہ پیسہ مجھے دے دیا کریں؟ جبکہ میرا اس دفتر سے کوئی تعلق نہیں۔ بہرحال یہ نوٹ لکھ کر رقم گورنمنٹ کو واپس کرنی چاہئے کہ اس سال اس مد میں کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا۔ اور آپ کے افسرِ مجاز نے کچھ پیسے آپ کو دئیے ہیں اور کچھ خود رکھ لئے ہیں، تو یہ پیسے نہ آپ کے لئے جائز ہیں، نہ آپ کے افسرِ مجاز کے لئے،(۱) بلکہ ان پیسوں کا گورنمنٹ کو واپس کرنا ضروری ہے۔(۲)

  1. (۱) قَالَ تَعَالَىﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ (قولہ بالباطل) بالحرام یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ، ونحوھا۔ (تفسیر بغوی ج:۲ ص:۵۰)۔
  2. (۲) والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۹۹، مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔