بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

آرمی‌کے‌مریضوں‌کے‌لئے‌مخصوص‌دوائیاں‌دُوسرے‌لوگوں‌پر‌اِستعمال‌کرنا

سوال:۔

میں آرمی میں ڈسپنسر ہوں، ہمارے پاس جو دوائیاں آتی ہیں یہ صرف اور صرف پاکستان آرمی کے مریضوں کے لئے آتی ہیں، جن کا سوِل لوگوں کو دینے کی اِجازت نہیں ہوتی (ایمرجنسی کے علاوہ) اور میں نے پاکستان آرمی کی دوائیاں فروخت کی ہیں، ابھی پاکستان آرمی کے مریضوں کو تو یہ پیسے نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ ضرورت مند نہیں ہیں، ان کی ضرورت گورنمنٹ پوری کردیتی ہے، تو کیا میں پیسے میں سوِل ضرورت مند مریضوں کو دے دُوں تو میرے ذمے سے حقوق العباد اُتر جائے گا؟ یا گورنمنٹ کے پاس جمع کراؤں؟ لیکن گورنمنٹ کے عہدے داروں پر اِعتبار نہیں ہے۔

جواب:۔

چونکہ آپ کے بقول گورنمنٹ کی طرف سے یہ دوائیاں آرمی کے لئے مخصوص ہیں، اس لئے آپ آرمی کے کھاتے میں جمع کروادیں۔(۱) واللہ اعلم!

  1. (۱) ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا ﵞ النساء ٥٨۔ أیضًا: لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ أو وکالۃ منہ۔ (شرح المجلۃ ص:۶۱، رقم المادّۃ:۹۶۱، أیضًا: الأشباہ والنظائر ص:۲۷۶ الفن الثانی)۔