بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

سرکاری‌طبّی‌اِمداد‌کا‌بے‌جا‌اِستعمال

سوال:۔

اکثر سرکاری اور نجی اِداروں میں دُوسری سہولتوں کے ساتھ طبّی سہولت بھی مفت فراہم کی جاتی ہے، اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ملازمین ان سہولتوں کا بے جا استعمال، خصوصاً طبّی سہولت کا، اس طرح کرتے ہیں کہ اپنی غلط بیانی سے بیماری بتاکر یا پھر ڈاکٹر کو بھی اس اسکیم میں شامل کرکے اپنے نام بہت ساری دوائیاں لکھوالیتے ہیں، اور پھر ان دوائیوں کو میڈیکل اسٹور والوں کو ہی بیچ کر سستے داموں میں ہی اپنی ضرورت کی کچھ اور چیزیں خرید لیتے ہیں، اور یہ کام اتنی حجت سے کیا جاتا ہے کہ اکثر ملازمین اسے اپنا حق سمجھتے ہیں اور اسے بُرائی کہنا ان کے لئے گالی دینے کے برابر بن جاتا ہے۔ مولانا صاحب! ایسا مال جو کہ جھوٹ بول کر اور ادارے کو دھوکا دے کر حاصل کیا جائے، رزقِ حلال کہا جاسکتا ہے؟ اور اس کے بدلے میں جو مال حاصل کیا جائے، جائز ہے؟

جواب:۔

آپ کے سوال کا جواب تو اتنا واضح ہے کہ مجھے جواب لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ سرکاری یا نجی اِداروں نے جو طبّی سہولتیں فراہم کی ہیں وہ بیماروں کے لئے ہیں، اب جو شخص بیمار ہی نہیں اس کا ان مراعات میں کوئی حق نہیں، اگر وہ مصنوعی طور پر بیمار بن کر علاج کے مصارف وصول کرتا ہے تو چند کبیرہ گناہوں کا اِرتکاب کرتا ہے۔ اوّل: جھوٹ اور جعل سازی۔ دوم: اِدارے کو دھوکا اور فریب دینا۔ سوم: ڈاکٹر کو رشوت دے کر اس گناہ میں شریک کرنا۔ چہارم: اِدارے کا ناحق مال کھانا۔ اور ان چاروں چیزوں کے حرام اور گناہِ کبیرہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔(۱) اور جس کمائی میں یہ چار گناہ شامل ہوں گے اس کے ناپاک، ناجائز اور بے برکت ہونے میں کیا شک ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمان بھائیوں کو عقل اور اِیمان نصیب فرمائے کہ وہ حلال کو بھی حرام کرکے کھاتے ہیں!

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: آیۃ المنافق ثلاث، زاد مسلم: وإن صام وصلّٰی وزعم أنہ مسلم، ثم اتفقا: إذا حدّث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷)۔ أیضًا: عن عبداللہ بن عمرو أن رجلًا جاء إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال ۔۔۔ یا رسول اللہ! ما عمل النار؟ قال: الکذب إذا کذب فجر وإذا فجر کفر وإذٓ کفر دخل یعنی النار۔ (مسند أحمد ج:۲ ص:۱۷۶)۔ أیضًا: عن عبداللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إیاکم والکذب! فإن الکذب یھدی إلی الفجور وإن الفجور یھدی إلی النار ۔۔۔إلخ۔ (سنن أبی داوٗد ج:۲ ص:۳۲۵ کتاب الأدب)۔ ومن غشّنا فلیس منّا۔ (مشکٰوۃ ص:۳۰۵)۔ عن أبی ھریرۃ قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشی والمرتشی فی الحکم۔ (ترمذی ج:۱ ص:۱۵۹، أبواب الأحکام)۔ أیضًا: لعن اللہ الراشی والمرتشی والرائش الذی یمشی بینھما۔ الحدیث۔ (کنز العمال ج:۶ ص:۱۱۴)۔ قَالَ تَعَالَىﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨۔ والمراد واللہ أعلم لَا یأکل بعضکم مال بعض بالباطل ۔۔۔ وأکل المال بالباطل علٰی وجھین أحدھما أخذہ علٰی وجہ الظلم والسرقۃ والخیانۃ والغصب وما جری مجراہ والآخر أخذہ من جھۃ محظورۃ نحو القمار ۔۔۔إلخ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۱ ص:۲۵۰ طبع سھیل اکیڈمی)۔