بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاملات

سرکاری‌گاڑی‌کا‌بے‌جا‌اِستعمال

سوال:۔

میں ایک سرکاری ملازم ہوں، عہدہ اور تنخواہ کے لحاظ سے مجھے کار رکھنے کا حق حاصل ہے، حکومت کی طرف سے کار الاؤنس ۲۸۵ روپے ماہوار ملتا ہے، لیکن میں اپنی گاڑی سے دفتر نہیں آتا ہوں، دفتر آنے جانے کے لئے سرکاری گاڑی استعمال کرتا ہوں، جس کے لئے جواز یہ پیدا کرتا ہوں کہ سرکاری فائل لے جانی ہوتی ہے، اس طرح سرکاری گاڑی کے استعمال پر تقریباً دو ہزار روپے ماہوار خرچ آتا ہے۔ آپ برائے کرم اِحتساب کے حوالے سے بتائیے کہ ایک مسلمان ہوتے ہوئے کیا یہ کار الاؤنس لینا میرے لئے حلال ہے؟ دُوسرے سرکاری گاڑی کا اس طرح جواز پیدا کرکے استعمال کرنا کہاں تک جائز ہے؟ چونکہ میں اس دن سے ڈرتا ہوں جب اِحتساب کیا جائے گا، اس لئے خداوند کریم کی خوشنودی حاصل کرنے اور اِحتساب سے بچنے کے لئے مجھ کو کیا کرنا چاہے؟

جواب:۔

اُصول یہ ہے کہ سرکاری املاک کو انہی مقاصد کے لئے اِستعمال کیا جاسکتا ہے، جن کی سرکار کی طرف سے اِجازت ہے۔(۱) آپ سرکاری گاڑی کے اِستعمال کو اس اُصول پر منطبق کرلیجئے، اگر کار الاؤنس کے ساتھ آپ کو سرکاری گاڑی کے اِستعمال کی اِجازت نہیں تو یہ اِستعمال غلط اور لائقِ مؤاخذہ ہے۔

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا ﵞ النساء ٥٨۔ أیضًا: یلزم أن یکون الآجر متصرفًا بما یؤجرہ أو وکیل المتصرف أو ولیہ أو وصیہ۔ (شرح المجلۃ ص:۲۵۳، المادّۃ:۴۴۶)۔