معاملات
سرکاریکوئلہاستعمالکرنےکیبجائےاسکےپیسےاستعمالکرلیناکیساہے؟
سوال:۔
میں سرکاری ملازم ہوں، ہمیں سردی کے موسم میں حکومت سے کوئلے کے لئے بجٹ منظور ہوتا ہے، یہ کوئلہ صرف سرد علاقوں کے لئے منظور ہوتا ہے، چونکہ میں ضلع سوات میں ملازمت کرتا ہوں جو کہ انتہائی سرد علاقہ ہے اور جنوری سے لے کر مارچ تک یہاں بہت سردی ہوتی ہے اور ہمیں کوئلہ جلانا ان مہینوں میں درکار ہوتا ہے، لیکن اس وقت حکومت ہمیں کوئی رقم مہیا نہیں کرتی اور پھر بعد میں جون کے مہینے میں روپے ملتے ہیں۔ اس کا طریقۂ کار اس طرح ہے کہ حکومت ایک آدمی کو ٹھیکہ دیتی ہے کہ آپ ان سرکاری دفاتر کو کوئلہ مہیا کریں، لیکن ٹھیکے دار کوئلہ مہیا نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے کاغذات میں واضح کرتا ہے کہ میں نے کوئلہ مہیا کیا، حالانکہ نہ ٹھیکے دار کوئلہ مہیا کرتا ہے اور نہ ہی دفتروں میں کوئلہ جلایا جاتا ہے بلکہ جب جون کے مہینے میں بجٹ منظور ہوتا ہے تو ٹھیکے دار اس سے اپنا کمیشن لیتا ہے اور باقی روپے ہم آپس میں تقسیم کرتے ہیں، حالانکہ یہ رقم ہمیں کوئلے کے لئے دی جاتی ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ: ’’یہ رقم ہمارے لئے جائز ہے، کیونکہ سردی کے دنوں میں ہم نے سردی برداشت کی اور اپنے لئے بچت کی، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ اور بعض کہتے ہیں کہ: ’’نقد حالت میں اس کا لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ ہم نے کوئلہ جلایا نہیں تو رقم کس چیز کی لیں گے؟‘‘ آپ حضرات فیصلہ کریں۔
جواب:۔
چونکہ بجٹ میں دیگر مصارف کے ساتھ اس مد میں بھی رقم رکھی جاتی ہے اور حکومت کی جانب سے اس کا باقاعدہ ٹھیکہ دیا جاتا ہے اور چونکہ ٹھیکے دار اس مد کی رقم سرکاری خزانے سے وصول کرتا ہے، اس لئے اس رقم کا لینا صارفین کا حق ہے۔ رہا یہ کہ ضرورت کے وقت کوئلہ مہیا نہیں کیا گیا اور آپ حضرات نے اس کے بغیر سردی کا موسم گزارا، یہ حکومت کی کارکردگی کا نقص ہے یا ٹھیکے دار کی نااہلی۔ آپ لوگوں کو اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے اور اس نظام میں جو خرابی ہے اس کی اصلاح کرانی چاہئے تاکہ ٹھیکے دار بروقت کوئلہ مہیا کرے۔ بہرحال جب اس مد کی رقم سرکاری خزانے سے نکالی جاچکی ہے، اس کا وصول کرنا آپ حضرات کے لئے صحیح ہے۔(۱)
- (۱) وتصح بقبض بلا إذن فی المجلس ۔۔۔ وبعدہ بہ أی بعد المجلس بالْإذن وفی المحیط لو کان أمرہ بالقبض حین وھبہ لَا یتقید بالمجلس ویجوز القبض بعدہ والتمکن من القبض کالقبض ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۵ ص:۶۹۰، کتاب الھبۃ، طبع سعید کراچی)۔

