بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

فلیٹ‌خرید‌کر‌داماد‌کے‌نام‌پر‌اس‌شرط‌سے‌کیا‌کہ‌زندگی‌تک‌مجھے‌اس‌کی‌آمدنی‌دے‌گا

سوال:۔

میں نے اپنی جیبِ خاص سے ایک فلیٹ دو لاکھ روپے میں خریدا اور اپنے داماد سے کہا کہ یہ فلیٹ اپنے نام پر کرالیں لیکن شرط یہ رکھی کہ اس فلیٹ کی آمدنی جب تک میں اور میری بیوی زندہ ہیں، ہم کو ملتی رہے گی۔ یہ شرط زبانی اپنے چار قریبی رشتہ داروں کے سامنے طے ہوئی، کچھ عرصے کے بعد یہ فلیٹ میرے داماد نے فروخت کردیا جس میں میری رضا بھی شامل تھی، لیکن داماد صاحب نے فلیٹ ساڑھے تین لاکھ میں فروخت کیا تھا، جس میں سے مجھے صرف پچاس ہزار روپے دے کر باقی خرچ کردئیے، اور کہا کہ قرض داروں کو دے دئیے، کیا شرعی اِعتبار سے ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب:۔

جب آپ نے ان کو دے دیا تو وہ مالک ہوگئے،(۱) اور انہوں نے آپ کی رضا کے ساتھ بیچ دیا تو ان کا فروخت کرنا صحیح تھا، اور آپ کو جو پچاس ہزار دیا وہ بھی صحیح تھا، البتہ داماد کو چاہئے تھا کہ اپنے وعدے کے مطابق فلیٹ کی ماہانہ آمدنی آپ کو تاحینِ حیات دیتا رہتا۔

  1. (۱) والھبۃ شرعًا: تملیک الأعیان بغیر عوض ۔۔۔ وتمام الھبۃ بالقبض۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۳ ص:۸۹)۔