بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

پراویڈنٹ‌فنڈ‌کی‌رقم‌لینا

سوال۱:۔

ہر سرکاری ملازم کی ایک رقم لازمی طور پر وضع کی جاتی ہے، یہ رقم پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے وضع ہوتی ہے۔ یہ رقم ملازم کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس کو ملتی ہے اور یہ رقم اس کی وضع کی ہوئی رقم کی دُگنی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ گورنمنٹ یہ رقم بینک میں رکھتی ہے اور چونکہ فکسڈ ڈپازٹ پر زیادہ سود ہوتا ہے اس لئے سرکاری ملازم کی ۲۵ سال یا ۳۰ سال کی ملازمت میں دُگنی ہوجاتی ہے۔ براہ کرم شرع کی روشنی میں بتائیے کہ یہ اضافی رقم لینا جائز ہے یا حرام ہے؟

سوال۲:۔

پراویڈنٹ فنڈ کی رقم جو گورنمنٹ کے کھاتے میں جمع ہوتی ہے، ملازم کو یہ تو ہر سال معلوم ہوتا رہتا ہے کہ اتنی رقم اس کے کھاتے میں جمع ہوگئی ہے، کیا اس رقم پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی یا نہیں؟ کیونکہ ملازم یہ رقم اپنی مرضی سے نہ تو نکال سکتا ہے اور نہ اپنی مرض سے خرچ کرسکتا ہے۔

جواب:۔

پراویڈنٹ فنڈ پر جو اضافی رقم محکمے کی طرف سے دی جاتی ہے اس کا لینا جائز ہے، اور جب تک وہ وصول نہ ہوجائے اور اس پر سال نہ گزر جائے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔(۱)

  1. (۱) وأما شرائط الفریضۃ ترجع إلی المال فمنھا الملک فلا تجب الزکاۃ فی سوائم الوقف والخیل المسبلۃ لعدم الملک، وھٰذا لأن فی الزکاۃ تملیکًا، والتملیک فی غیر الملک لَا یتصور۔ (البدائع الصنائع ج:۲ ص:۹ طبع سعید)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ وسود کا مسئلہ، مرتبہ: مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ۔