خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
دفتریاوقاتمیںنیککامکرنا
سوال:۔
بعض سرکاری ملازمین، مثلاً: اساتذہ، کلرک وغیرہ ڈیوٹی کے اوقات کے دوران جبکہ کوئی وقفہ بھی نہیں (یعنی وقفہ کے علاوہ) رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور اس دوران کوئی کام نہیں کرتے، جس کی وجہ سے اساتذہ کرام سے بچوں کا اور دیگر ملازمین سے دفتر اور متعلقہ افراد کا نقصان یا کام کا حرج ہوتا ہے۔ ان کا یہ فعل ثواب ہے یا نہیں؟
جواب:۔
سرکاری ملازمین ہوں یا نجی ملازم، ان کے اوقاتِ کار ان کے اپنے نہیں بلکہ جس ادارے کے وہ ملازم ہیں اس نے تنخواہ کے عوض ان اوقات کو ان سے خرید لیا ہے، ان کے وہ اوقات اس ادارے اور قوم کی امانت ہیں، اگر وہ ان اوقات کو اس کام پر صَرف کرتے ہیں جو ان کے سپرد کیا گیا ہے تو امانت کا حق ادا کرتے ہیں، اور ان کی تنخواہ ان کے لئے حلال ہے، اور اگر ان اوقات میں کوئی دُوسرا کام کرتے ہیں (مثلاً: تلاوت) یا کوئی کام نہیں کرتے، بلکہ گپ شپ میں گزار دیتے ہیں تو وہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور ان کی تنخواہ ان کے لئے حلال نہیں۔(۱)
البتہ اگر دفتر کا مطلوبہ کام نمٹاچکے ہیں، اور وہ کام نہ ہونے کی وجہ سے فارغ بیٹھے ہوں تو اس وقت تلاوت کرنا جائز ہے، اسی طرح کس اور اچھے کام میں اس وقت کو صَرف کرنا بھی صحیح ہے۔
ہمارا ملازم طبقہ اس معاملے میں بہت کوتاہی کرتا ہے، دیانت و امانت کے ساتھ کام کے وقت کام کرنے کا تصوّر ہی جاتا رہا، یہ حضرات عوام کے نوکر ہیں، ملازم ہیں، سرکاری خزانے میں عوام کی کمائی سے جمع ہونے والی رقوم سے تنخواہ پاتے ہیں، لیکن کام چوری کا یہ عالم ہے کہ عوام دفتروں کے بار بار چکر لگاتے ہیں اور ناکام واپس جاتے ہیں، اور اگر رشوت یا سفارش چل جائے تو کام فوراً ہوجاتا ہے، گویا یہی حضرات سرکار کے (اور سرکار کی وساطت سے عوام کے) ملازم نہیں بلکہ رشوت و سفارش کے ملازم ہیں۔ انصاف کیا جائے کہ ایسے ملازمین کی تنخواہ ان کے لئے کیسے حلال ہوسکتی ہے؟ اگر ان کو دِل سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہو اور انہیں معلوم ہو کہ کل قیامت کے دن ان کو اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے تو دفتری کام کو دیانت و امانت کے ساتھ انجام دیا کریں، اور عوام ان کے طرزِ عمل سے پریشان نہ ہوا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں امانت و دیانت کی دولت سے بہرہ ور فرمائیں۔
- (۱) ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من أجرتہ بقدر ما عمل۔ وفی الشامیۃ: قولہ (ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ) بل ولَا أن یصلی النافلۃ وفی فتاوی الفضلی وإذا استأجر رجلًا یومًا یعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذٰلک العمل إلٰی تمام المدۃ ولَا یشتغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ وقد قال بعض مشائخنا أن یؤدی السُّنّۃ أیضًا واتفقوا أنہ لَا یؤدی نفلًا وعلیہ الفتویٰ۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۷۰، کتاب الْإجارۃ، طبع سعید)۔

