خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
راتکوڈیوٹیکےدورانباریباریسونا
سوال:۔
میں ایک پاور ہاؤس میں ملازم ہوں، مہینے میں ایک ہفتہ رات کی ڈیوٹی کا ہوتا ہے، جس میں میرے ساتھ کام کرنے والے ساتھی دو تین گھنٹے باری باری سوکر آرام کرلیتے ہیں، جس کا ہمارے افسران کو بھی علم ہے، زیادہ تکان کے وقت کبھی کبھی افسران بھی آرام کرلیتے ہیں، لیکن میں دو سال سے اسے ناجائز سمجھنے کی وجہ سے نہیں سورہا، پوری رات جاگنے کی وجہ سے صحت پر کافی اثر ہوتا ہے، اور رات ۳-۴بجے کے بعد ڈیوٹی بھی صحیح انجام نہیں دے پاتا، اس سلسلے میں آپ سے رہنمائی کا طالب ہوں۔
جواب:۔
آپ کا طرزِ عمل صحیح ہے، لیکن اگر اَفسران کی طرف سے دو تین گھنٹے سونے کی اجازت مل جاتی ہے اور اس سے کام میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، تو سونے کی گنجائش ہے، واللہ اعلم!

