بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

غلط‌اوور‌ٹائم‌لینے‌اور‌دِلانے‌والے‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

میں محکمۂ دِفاع میں ملازمت کرتا ہوں، ہمارے دفتری اوقات صبح ساڑھے سات بجے تا دوپہر دو بجے تک مقرّر ہیں، حکومت کی طرف سے ڈیڑھ بجے سے آدھ گھنٹے کا وقت نمازِ ظہر کے لئے وقف ہے، دو بجے کے بعد جو حضرات ڈیڑھ د وگھنٹے دفتر کا کام کرتے ہیں ان کو از رُوئے قانون ۳ روپے یومیہ معاوضہ دیا جاتا ہے، اور اس سلسلے میں متعلقہ افسر صاحب کو تصدیق کرنا ہوتی ہے کہ فلاں فلاں صاحب نے فلاں فلاں دن ۲ بجے کے بعد دفتر کا کام کیا ہے، لہٰذا اس طرح کچھ حضرات جو افسر صاحب کے منظورِ نظر ہوتے ہیں پورے مہینے کا اوور ٹائم کا معاوضہ ستر پچھتّر روپے ماہوار تک حاصل کرلیتے ہیں۔ اب غور اور حل طلب بات یہ ہے کہ ہمارے دفتر میں اتنا زیادہ کام نہیں ہوتا جس کے لئے لیٹ بیٹھنا پڑے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر دیانت داری سے کام لیا جائے تو روزانہ اوسط تین گھنٹے سے زیادہ کسی بھی صاحب کے پاس کام نہیں ہوتا، چہ جائیکہ اوور ٹائم کا سوال، لہٰذا یہ سراسر دروغ گوئی ہے۔ ماشاء اللہ تصدیق کنندہ افسر صاحب ظاہری طور پر بڑے ہی نیک ہیں، کبھی کبھی نمازِ ظہر کی اِمامت بھی کرواتے ہیں، اس پر طرّہ یہ کہ جھوٹا تصدیق نامہ کرنے کو بھی کارِ خیر سمجھتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں بقول ان کے کہ اگر واقعی یہ نیک کام ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس مصلحت کے تحت یہ نیکی صرف مخصوص حضرات کے ساتھ ہی کی جاتی ہے اور باقی کو نظر انداز کردیا جاتا ہے، اور یہ ساری کاغذی کارروائی انتہائی خفیہ طور سے کی جاتی ہے تاکہ جن ملازمین کو پیسے نہیں ملتے ان کو خبر نہ ہونے پائے، اگر کبھی ہم ان سے کہتے ہیں کہ حضور! آپ ایسا غلط کام کیوں کرتے ہیں؟ تو بجائے اپنی اصلاح کرنے کے اُلٹا مزید ہمارے خلاف ہی انتقامی کارروائی کی جاتی ہے اور ہمیں ناحق پریشان کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ایسے ہی دُنیادار قسم کے افسر ہوتے تو ہمیں ان سے کوئی گلہ شکوہ نہ ہوتا، اور پھر آپ کو بھی اس سلسلے میں تکلیف نہ دیتے، مگر متذکرہ اوصاف کے حامل انسان کے ایسے رویے سے بڑا دُکھ اور مایوسی ہوتی ہے۔

جواب:

الف:۔ جو صاحبان اوور ٹائم لگائے بغیر اس کا معاوضہ وصول کرلیتے ہیں وہ حرام خور ہیں اور قیامت کے دن ان کو یہ سب کچھ اُگلنا ہوگا۔(۱) معلوم نہیں قیامت کے حساب و کتاب پر وہ یقین بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔

ب:۔ یہ نیک پارسا افسر صاحب، لوگوں کو سرکاری رقم حرام کھلاتے ہیں، قیامت کے دن ان سے پوری رقم کا مطالبہ ہوگا۔(۲) ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ: دُنیا کا سب سے بڑا احمق کون ہے؟ فرمایا: جو اپنے دِین کو برباد کرکے دُنیا بنائے، اور دُنیا کی خاطر آخرت کو برباد کرے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر احمق وہ شخص ہے جو دُوسروں کی دُنیا کی خاطر اپنے دِین کو برباد کرے۔

  1. (۱) قَالَ تَعَالَىﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨(بالباطل) بالحرام یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔ (معالم التنزیل ج:۲ ص:۵۰)۔ قَالَ تَعَالَى ﵟ ٱلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلَىٰٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَتُكَلِّمُنَآ أَيۡدِيهِمۡ وَتَشۡهَدُ أَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ﵞ يس ٦٥
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لتؤدنّ الحقوق إلٰی أھلھا یوم القیامۃ حتّٰی یقاد للشاۃ الجلجاء من الشاۃ القرناء۔ (ترمذی ج:۲ ص:۶۷، أبواب صفۃ القیامۃ)۔