خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
ناجائزذرائعسےکمائیہوئیدولتکوکسطرحقابلِاستعمالبنایاجاسکتاہے؟
سوال:۔
ایک شخص نے ناجائز ذرائع سے دولت حاصل کی ہے، اس گھر میں جو کہ ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت سے خریدا گیا ہو، یا بنوایا گیا ہو، اس شخص کا اور گھر کے دیگر افراد کا نماز پڑھنا، تلاوتِ کلامِ پاک اور دیگر عبادات و اذکار کرنا کیسا ہے؟ نیز گھر کے باہر کے افراد جن میں دوست احباب وغیرہ شامل ہیں ان کا ان اعمال کا ادا کرنا کیسا ہے جبکہ ان کو اس بارے میں علم ہو یا محض شک ہو؟
سوال:۔
اگر بعد میں یہ شخص اپنی ان ناجائز حرکتوں پر نادم ہوکر توبہ کرے تو اس ناجائز دولت سے حاصل شدہ گھر، دیگر جائیدادوں اور املاک و نقدی وغیرہ کا کیا کرے؟ جبکہ اس کے پاس رہنے کا انتظام بھی نہیں ہے، تو کیا وہ شخص بحالتِ مجبوری اس گھر میں رہ سکتا ہے؟
سوال:۔
اسی طرح اس شخص سے جس کی کمائی ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی ہے، کوئی ضرورت مند شخص قرض لے سکتا ہے، جبکہ قرض لینے والے کو اس بارے میں علم ہے یا علم نہ ہو، یا محض شک ہو۔ واضح کریں کہ ناجائز آمدنی جن میں چوری، رشوت، ڈاکا، فریب وغیرہ شامل ہیں، مندرجہ بالا مسائل میں سب کا حکم ایک ہی ہے یا مختلف ہے؟
جواب:۔
ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب ہے کہ چوری، ڈاکا، رشوت وغیرہ کے ذریعہ جو دولت کمائی گئی، یہ شخص اس دولت کا مالک نہیں، جب تک اصل مالکوں کو اتنی رقم واپس نہ کردے یا معاف نہ کرالے۔ جس ’’ناجائز آمدنی‘‘ کا تعلق حقوق العباد سے ہو، اس کی مثال مردار اور خنزیر کی سی ہے کہ کسی تدبیر سے بھی اس کو پاک نہیں کیا جاسکتا، اور اس کے پاک کرنے کی بس دو ہی صورتیں ہیں، یا وہ چیز مالک کو ادا کردی جائے یا اس سے معاف کرالی جائے۔(۱) تیسری کوئی صورت نہیں۔ ایسی ناجائز آمدنی کو نہ آدمی کھاسکتا ہے، نہ کسی کو کھلاسکتا ہے، نہ (اپنی طرف سے) صدقہ دے سکتا ہے، نہ کسی کو ہدیہ دے سکتا ہے، نہ قرض دے سکتا ہے۔
- (۱) والحاصل انہ إن علم أرباب الأموال وجب ردّہ علیھم، وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہٖ بنیۃ صاحبہ۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۹۹، باب البیع الفاسد، طبع سعید)۔ وإن کانت (أی التوبۃ) عما یتعلق بالعباد فإن کانت من مظالم الأحوال فیتوقف صحۃ التوبۃ منھا مع قدمناہ فی حقوق اللہ علی الخروج عن عھدۃ الأموال وارضاء الخصم فی الحال أو الْإستقبال بأن یتحلل منھم أو یردھا إلیھم أو إلٰی من یقوم مقامھم ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۹۴، طبع بمبئی)۔

