خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
جعلسازیسےگاڑیکاالاؤنسحاصلکرنااوراسکااستعمال
سوال:۔
ہم ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہیں، ہمارا ادارہ اپنے ملازمین میں سے صرف افسران کو تنخواہ کے علاوہ کچھ خصوصی رقم جن کو الاؤنسز کہا جاتا ہے، دیتا ہے۔ ان الاؤنسز میں سے ایک ’’کار الاؤنس‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کی شرط یہ ہے کہ جس افسر کو یہ الاؤنس دیا جارہا ہے اس کے پاس اپنی گاڑی ہو، جو خود اس کے استعمال میں ہو اور گاڑی کے کاغذات ادارے میں جمع کرائے گئے ہوں۔ جس افسر کے پاس گاڑی نہ ہو اس کو آنے جانے کا خرچ جس کو ’’کنوینس الاؤنس‘‘ کہا جاتا ہے، ملتا ہے، جو کار الاؤنس کے مقابلے میں بہت ہی کم ہوتا ہے۔ کچھ دھوکے باز ملازمین گاڑی خرید کر اس کے کچھ کاغذات جمع کرادیتے ہیں اور بعد میں گاڑی بیچ دیتے ہیں، جبکہ کار الاؤنس جاری رہتا ہے۔ اگر کسی وقت انکوائری کا خطرہ محسوس ہوا تو دُوسری گاڑی خرید کر یا کسی عزیز کی گاڑی دِکھادی۔ اس قسم کے ناجائز کام وہ حضرات بھی انجام دینے میں شامل ہیں جو نیک اور نمازی کہلاتے ہیں۔ ہم ا ٓپ سے قرآن و سنت کی روشنی میں مؤدّبانہ طور پر یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ اس طریقے سے حاصل کی گئی رقم حلال اور جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو کیوں؟
سوال:۔
جو رقم ماضی میں حاصل ہوچکی، وہ اداروں کو واپس کرنا ہوگی یا توبہ کرلینے سے گزارہ ہوجائے گا؟
سوال:۔
ہم یہ سمجھ کر کہ یہ دُنیاوی معاملہ ہے، دِین سے اس کا کیا واسطہ، ان میں سے کوئی نماز پڑھائے تو اس کے پیچھے نماز ادا کرتے رہیں؟
جواب:۔
جعل سازی اور فراڈ سے جو رقم حاصل کی گئی وہ حلال کیسے ہوگی؟ ایسے افسران تو اس لائق ہیں کہ ان کو معطل کردیا جائے۔(۱)
جواب:۔
توبہ بھی کریں، اور رقم بھی واپس کریں۔(۲)
جواب:۔
اگر ناواقفی کی وجہ سے کیا تھا اور معلوم ہونے پر توبہ کرلی اور رقم بھی واپس کردی تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے، ورنہ نہیں۔(۳)
- (۱) ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞقولہ بالباطل یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔ (تفسیر بغوی ج:۲ ص:۵۰، أیضًا تفسیر نسفی ج:۱ ص:۳۵۱)۔
- (۲) قَالَ تَعَالَىﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُبُواْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا ﵞ التحريم ٨۔ قال ابن عابدین رحمہ اللہ: والحاصل انہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم ۔۔۔ وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۹۹، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔
- (۳) إن من شرط التوبۃ: أن ترد الظلامۃ إلٰی أصحابھا، فإن کان ذٰلک فی المال، وجب أدائہ عینًا أو دینًا ما دام مقدورًا علیہ، فإن کان صاحبہ مات دفع إلٰی ورثتہ ۔۔۔إلخ۔ (القواعد للزرکشی ج:۲ ص:۲۴۵ طبع بیروت)۔ وکرہ إمامۃ عبد وفاسق وأعمٰی (قولہ وفاسق) من الفسق وھو الخروج عن الْإستقامۃ، ولعل المراد من یرتکب الکبائر کشارب الخمر والزان وآکل الربا ونحو ذٰلک۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۵۶۰ باب الْإمامۃ)۔

