بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

فیکٹری‌مالکان‌اور‌مزدوروں‌کو‌باہم‌اِفہام‌و‌تفہیم‌سے‌فیصلہ‌کرلینا‌چاہئے

سوال:۔

ایک فیکٹری کے اوقات صبح آٹھ بجے تا شام ساڑھے چار بجے تھے، یونین اور مالکان کے درمیان طے پایا کہ اوقات بڑھاکر ۸ تا ۵ بج کر ۱۰ منٹ کردئیے جائیں، اور جمعہ کے علاوہ ایک جمعرات چھوڑ کر دُوسری جمعرات چھٹی ہوا کرے، یعنی ماہ میں کل چھ چھٹیاں ہوں۔ پھر یہ بات بھی طے پائی کہ ہر ماہ کی پہلی اور تیسری جمعرات کو چھٹی ہوا کرے گی، یہ بات اس لئے طے کرلی کہ جھگڑا نہ ہو کہ کون سی جمعرات کو چھٹی ہوگی۔

اب سوال یہ ہے کہ اس بات کا اس وقت کسی کو خیال نہیں آیا کہ کسی ماہ میں پانچ جمعراتیں بھی آسکتی ہیں، کمپنی کہتی ہے کہ ہم تو صرف پہلی اور تیسری جمعرات کو چھٹی دیں گے، ہم پانچ جمعراتوں کے مسئلے کے ذمہ دار نہیں۔ حالانکہ اس صورت میں اس ماہ کے اوقاتِ کار دُوسرے مہینوں سے زیادہ ہوجائیں گے، حساب سے تو یہی ہونا چاہئے کہ ایک جمعرات کو کام ہو اور ایک کو نہ ہو، تب ہی اوقاتِ کار صحیح رہتے ہیں، مگر کمپنی کے مالکان اس بات کو نظرانداز کرنا چاہتے ہیں۔ اتفاق سے اس سال ایک سے زیادہ مہینوں میں پانچ جمعراتیں آرہی ہیں، مثلاً: اسی ماہِ مئی میں پانچ جمعراتیں آرہی ہیں۔ اس سلسلے میں اسلامی عدل و انصاف کا فیصلہ تحریر فرمائیں تاکہ مالکان جو خود بھی بڑے مذہبی ہیں، عنداللہ گنہگار نہ ہوں اور مزدور بھی حق سے زیادہ نہ لیں۔

دُوسری بات یہ ہے کہ اگر جمعرات کو سرکاری چھٹی آجائے تو اس کے عوض مزدوروں کو الگ چھٹی ملنی چاہئے یا نہیں؟ کیونکہ وہ چھٹی تو انہیں بہرحال ملتی، اور یہ جو جمعرات کی چھٹی ہے یہ تو وہ روزانہ چالیس منٹ فالتو کام کرکے کما رہے ہیں۔ یہ تو بہرحال فالتو گھنٹوں کی مناسبت سے ان کو ملنی ہی چاہئے، اس سلسلے میں عدل و انصاف کا فیصلہ تحریر فرمائیں۔

جواب:۔

طرفین کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس کی رُوح کو ملحوظ رکھتے ہوئے عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی مہینے میں پانچویں جمعرات آئے تو اس دن کارکنوں کو آدھی چھٹی ملنی چاہئے، اور اگر آدھی چھٹی فیکٹری کے حق میں نقصان دہ ہو تو اُصول یہ طے کرلینا چاہئے کہ ایک جمعرات چھوڑ کر دُوسری جمعرات چھٹی ہوگی، اور کلینڈر دیکھ کر چھٹی کے دنوں کا چارٹ لگادینا چاہئے تاکہ اختلاف و نزاع کی نوبت نہ آئے۔ دُوسرے مسئلے میں فریقین کے درمیان چونکہ کوئی بات طے نہیں ہوئی، اس لئے اس میں عرفِ عام کو دیکھا جائے گا۔(۱) اگر عام کمپنیوں کا دستور یہی ہے کہ ایسی صورت میں الگ دن کی چھٹی ملا کرتی ہے تو اسی کو طے شدہ سمجھنا چاہئے، اور اگر نہیں ملا کرتی تو اس صورت میں بھی نہیں ملنی چاہئے۔ اور اگر اس سلسلے میں کوئی لگا بندھا دستور نہیں ہے تو یہ معاملہ کارکنوں اور کمپنی والوں کو باہمی افہام و تفہیم سے طے کرلینا چاہئے۔ اور آپ نے چھٹی کے حق میں جو دلیل لکھی ہے، وہ اپنی جگہ معقول اور وزنی ہے۔

  1. (۱) التعیین بالعرف کالتعیین بالنص۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۳۸)۔