بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

فلیٹوں‌کے‌مشترکہ‌اِخراجات‌اَدا‌نہ‌کرنا‌سراسر‌حرام‌ہے

سوال:۔

ہم جس اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں، وہ ڈیڑھ سو فلیٹس پر مشتمل ہے، اس میں چوکیدار کا نظام، پانی کی سپلائی اور صفائی کے اِخراجات کی مد میں فی فلیٹ ماہانہ دو سو روپے لئے جاتے ہیں، تاکہ اُوپر بیان کردہ سہولتیں مکینوں کو مہیا کی جائیں۔ کچھ مکین ایک بھی پیسہ نہیں دیتے، لیکن ساری سہولتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ مولانا صاحب! شرعی اِعتبار سے کیا یہ حرام خوری نہیں ہے؟

جواب:۔

یہ حقوق العباد کا مسئلہ ہے، جب اِجتماعی سہولتیں سب اُٹھاتے ہیں تو ان کے واجبات بھی سب کے ذمے لازم ہیں۔ ان میں اگر کچھ لوگ واجبات ادا نہیں کرتے تو گویا دُوسروں کا مال ناحق کھانے کے وبال میں مبتلا ہیں، جو سراسر حرام ہے، اور قیامت کے دِن ان کو بھرنا ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ جانتے ہو مفلس کون ہے؟ عرض کیا: ہمارے یہاں تو مفلس وہ شخص کہلاتا ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو۔ فرمایا: میری اُمت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حالت میں آئے گا کہ فلاں کو گالی گلوچ کیا تھا، فلاں پر تہمت لگائی تھی، فلاں کا مال کھایا تھا، فلاں کی خونریزی کی تھی، فلاں کو ماراپیٹا تھا، اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی، پس اگر نیکیاں ختم ہوگئیں مگر لوگوں کے حقوق ادا نہیں ہوئے تو حقوق کے بقدر لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ (مشکوٰۃ ص:۴۳۵)(۱) اس لئے مسلمان کو چاہئے کہ قیامت کے دن ایسی حالت میں بارگاہِ اِلٰہی میں پیش ہو کہ لوگوں کے حقوق (جان، مال اور عزّت وآبرو کے بارے میں) اس کے ذمے نہ ہوں، ورنہ آخرت کا معاملہ بڑا سنگین ہے۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أتدرون ما المفلس؟ قالوا: المفلس فینا من لَا درھم لہ ولَا متاع! فقال: إن المفلس من اُمّتی من یأتی یوم القیامۃ بصلاۃ وصیام وزکٰوۃ، ویأتی قد شتم ھٰذا، وقذف ھٰذا، وأکل مال ھٰذا، وسفک دم ھٰذا، وضرب ھٰذا، فیعطی ھٰذا من حسناتہ، وھٰذا من حسناتہ، فإن فنیت حسناتہ قبل أن یقضٰی ما علیہ، أخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۵، باب الظلم، مسلم ج:۲ ص:۳۲۰، ترمذی ج:۲ ص:۶۷)۔