بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

اسپانسر‌اسکیم‌کے‌ڈرافٹ‌کی‌خریداری

سوال:۔

آج کل ریگولر اسکیم اور اسپانسر شپ اسکیم کے تحت حج درخواستیں جمع ہوتی ہیں، اسپانسر شپ میں جو حج کے لئے جانا چاہے تو باہر کسی ملک سے ۴۵ ہزار روپے کا ڈرافٹ منگاکر جمع کرائے۔ بعض حضرات یہ ڈرافٹ جو بھی حج پر جانا چاہے اس سے کچھ رقم زائد لے کر اس کے نام سے منگاکر دیتے ہیں۔ آج کل یہ ڈرافٹ ۴۹۵۰۰ روپے کا مل رہا ہے۔ صورت یہ ہے کہ اسپانسر شپ اسکیم کے تحت جانے والے حاجیوں کی بڑی تعداد اسی طرح زائد رقم خرچ کرکے ڈرافٹ لے کر حج پر جاتی ہے۔ دریافت طلب اَمر یہ ہے کہ اس طرح زائد رقم دے کر ڈرافٹ لینا جائز ہے؟ جو لوگ باہر سے ڈرافٹ منگاکر دیتے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ یہ آپ زائد رقم کیوں لے رہے ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کرنسی کا فرق ہے، غیرملک میں جب ڈرافٹ بنتا ہے تو کرنسی میں اتنا فرق آجاتا ہے۔ اور کچھ نفع وہ بھی رکھتے ہوں گے۔ اگر یہ صورت ناجائز ہو تو اس کی اصلاح کی کیا صورت ہے؟

کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ حکومت یہ ڈرافٹ پاکستانی روپے کے بجائے باہر کی کرنسی مثلاً: ڈالر، پاؤنڈ، ریال وغیرہ میں لے لے؟ اس طرح اگر پاکستانی روپے دے کر باہر کی کرنسی کا ڈرافٹ لیا جائے گا تو وہ سود کے زُمرے میں تو نہیں آئے گا؟ اس وقت جو ڈرافٹ ملتا ہے وہ پاکستانی روپے میں ہوتا ہے، جبکہ ادائیگی بھی پاکستانی روپے میں ہوتی ہے۔ اسپانسر شپ اسکیم کو لوگ یوں بھی ترجیح دیتے ہیں کہ اس میں ریگولر اسکیم کے برعکس مکہ مکرّمہ، مدینہ منوّرہ میں حکومت کی طرف سے لازمی رہائش کی شرط نہیں ہوتی، جبکہ ریگولر اسکیم میں حج پر جانے والوں کے لئے لازمی رہائش کی شرط ہوتی ہے، اور لازمی رہائش میں تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔

جواب:۔

زیادہ پیسے دے کر کم پیسے کا ڈرافٹ لینا تو سود ہے،(۱) البتہ ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ دُوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ ہر طرح جائز ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ۔(۲) اس لئے بہتر شکل تو یہ ہے کہ حکومت ریالوں یا ڈالروں کا ڈرافٹ لیا کرے، یا پھر یہ شکل کی جائے کہ ڈرافٹ کے لئے تو اتنی ہی رقم لی جائے جتنے کا ڈرافٹ ہے، اور زائد رقم ایجنٹ حضرات اپنے محنتانہ کے طور پر الگ لیا کریں۔(۳)

  1. (۱) باب الربا ھو فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال أی فضل أحد المتجانسین علی الآخر ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۱۳۵ طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
  2. (۲) بیعوا الذھب بالفضۃ کیف شئتم یدا بید، وبیعوا البر بالتمر کیف شئتم یدا بید، وبیعوا الشعیر بالتمر کیف شئتم یدا بید۔ (ترمذی شریف، کتاب البیوع ص:۲۳۵)۔ وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنی المفھوم إلیہ، حل التفاضل والنسأ لعدم العلۃ المحرمۃ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۸۱ باب الربا، کتاب البیوع)۔
  3. (۳) إجارۃ السمسار والمنادی والحمامی والصکاک وما لَا یقدر فیہ الوقت ولَا العمل تجوز لما کان للناس بہ حاجۃ ویطیب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۷، کتاب الْإجارۃ)۔