خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
آزادعورتوںکیخریدوفروخت
سوال:۔
عرض یہ ہے کہ ہمارے یہاں اندرونِ سندھ و بلوچستان میں وہ بنگالی عورتیں جو دلالوں کے ذریعے مکر و فریب میں پھنس کر بنگلہ دیش سے پاکستان لائی جاتی ہیں، ان عورتوں میں کچھ بالغ و نابالغ کنواری عورتیں بھی ہوتی ہیں، کچھ لاوارث (طلاق شدہ) اور شادی شدہ بھی ہوتی ہیں، جن کو دلال جبراً یا مجبوراً دیہات میں لاوارث کی حالت میں چھوڑ کر لوگوں کے یہاں نکاح میں دے جاتے ہیں، کیا شرعی لحاظ سے بنگالی یا غیربنگالی اس قسم کی عورتوں سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہے تو اس کاروبار کو حرام قرار دیں اور فتویٰ بھی شائع کریں تاکہ لوگ آئندہ یہ کاروبار ختم کردیں اور خریدنے والوں کو بھی شرعی تنبیہ کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک شرعی فرمان اور ہدایت ہو، اور خصوصاً مولوی حضرات کو بھی گزارش کریں کہ وہ آئندہ اس قسم کے نکاحوں کے عمل سے گریز کریں۔
جواب:۔
آزاد عورتوں کی خرید و فروخت (جس کو عرفِ عام میں ’’بردہ فروشی‘‘ کہا جاتا ہے) شرعاً حرام ہے۔(۱) اور جو لوگ اس گندے کاروبار میں ملوّث ہیں وہ انسانیت کے دُشمن، شیطان کے ایجنٹ اور معاشرے کے مجرم ہیں۔ ایسی عورتیں جو اِن ظالموں کے چنگل میں ہوں اگر کوئی شخص ان کو رہائی دِلانے کے لئے ان سے شرعی طریقے پر نکاح کرلیتا ہے تو نکاح صحیح ہے۔ شرط یہ ہے کہ عورت اگر عاقلہ و بالغہ ہو تو نکاح اس کی رضامندی سے ہوا ہو، اور اگر لڑکی نابالغ ہے تو اس کا نکاح اس کے اولیاء کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا، جب تک کہ وہ جوان نہ ہوجائے۔ جوان ہونے کے بعد اس کی رضامندی سے نکاح کیا جائے تو نکاح ہوجائے گا۔(۲)
- (۱) عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: قال اللہ: ثلاثۃ أنا خصمھم یوم القیامۃ: رجل أعطیٰ بی ثم غدر ورجل باع حرًّا فأکل ثمنہ ورجل استأجر أجیرًا فاستوفٰی منہ ولم یعط أجرہ۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۹۷)۔ وأما شرائط المعقود علیہ: فإن یکون موجودا مالًا متقوّمًا ۔۔۔ ولم ینعقد بیع ما لیس بمال متقوم کبیع الحر۔ (البحر الرائق ج:۵ ص:۲۵۹)۔
- (۲) قولہ (نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ولی) لأنھا تصرفت فی خالص حقھا وھی من أھلہ لکونھا عاقلۃ بالغۃ ۔۔۔ وقید بالمکلفۃ إعتراضًا عن الصغیرۃ فإنہ لَا ینعقد نکاحھا إلّا بولی۔ (البحر الرائق، کتاب النکاح ج:۳ ص:۱۰۹، ۱۱۰)۔

