خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
اگرکوئیسونےکیاُجرتنہدےتوکیااُسکےسونےسےاُجرتکیبقدرلےکراُسےبتادیاجائےتودُرستہوگا؟
سوال:۔
ہماری ڈائی مشین پر صرف دُکان دار کام کرواتے ہیں، لیکن اُجرت نقد نہیں دیتے، بلکہ ہفتہ بعد مزدوری دینے کا وعدہ کرتے ہیں، اور تھوڑی تھوڑی کرکے ادائیگی کرتے ہیں۔ بعض دُکان دار رقم روک لیتے ہیں اور بہت زیادہ رقم جمع ہوجائے تو کام بند کرکے دُوسری مشین والوں سے کام شروع کراتے ہیں۔ شاگرد بار بار جاتے ہیں، لیکن رقم نہیں ملتی، نتیجہ یہ کہ رقم بھی گئی اور گاہک بھی گیا۔ ایک دُوسری مشین والے کا کہنا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ رقم زیادہ ہوگئی ہے تو سونا جو اسے کام کے لئے دیا جاتا ہے، اس سے وہ تھوڑا تھوڑا سونا رکھ لیتا ہے، جس کا دُکان دار کو پتا نہیں چلتا، اور وصولی بھی ہوجاتی ہے، بعد میں دُکان دار کا کھاتہ وصول کرکے بتادیتے ہیں۔ کیا اس طرح وصول کرنا دُرست ہے؟ جبکہ پہلی صورت میں کاروبار بند ہوجاتا ہے، اور نقصان ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، اور دُوسری صورت میں دونوں راضی رہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ مزدوری دینے میں نیت خراب ہوتی ہے، یعنی نہ دینے کی، اور کاروبار میں وعدہ خلافی بھی کرتے ہیں، تو کیا دُوسرے طریقے سے اپنا حق وصول کرنے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟
جواب:۔
دُرست ہے، بشرطیکہ ان کے ساتھ کوئی دھوکا نہ کیا جائے،(۱) واللہ اعلم!
- (۱) ولَا یقطع ۔۔۔ ومثل دینہ ولو دینہ مؤجلًا أو زائدًا علیہ أو أجور لصیرورتہ شریکًا إذا کان من جنسہ ولو حکمًا۔ (قولہ ولو دینہ مؤجلا) لأنہ استیفاء لحقہ والحال والمؤجل سواء فی عدم القطع استحسانا ۔۔۔ وقد صرح فی شرح تلخیص الجامع فی باب الیمین فی المساومۃ بأن لہ الأخذ وکذا فی خطر المتجبٰی ولعلہ محمول علٰی ما إذا لم یمکنہ الرفع للحاکم فإذا ظفر بمال مدیونہ لہ الأخذ دیانۃ بل لہ الأخذ من خلاف الجنس۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۴ ص:۹۵، مطلب فی أخذ الدائن من مال مدیونہ من خلاف جنسہ، طبع سعید)۔

