خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
امانتکیحفاظتپرمعاوضہلینا
سوال:۔
میرے پاس لوگ پیسے جمع کراتے ہیں اور میں جمع کرتا ہوں، لینے دینے میں بھول بھی ہوتی ہے، اس کے علاوہ کافی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے، اس پر اگر دو روپیہ فی سیکڑہ لیا جائے تو یہ جائز ہوگا یا ناجائز؟ برائے مہربانی مطلع فرماویں۔
جواب:۔
لوگ آپ کے پاس بطور امانت کے رقمیں جمع کراتے ہیں، جتنی رقم جمع کرائیں اتنی ہی رقم واپس کرنا ضروری ہے، بھول چوک اور ادائیگی میں نزاع نہ ہونے کے لئے حساب کتاب رکھنا بھی ضروری ہے، اور بصورت وفات ورثاء کو امانتیں ادا کرنے میں بھی سہولت رہے گی۔ البتہ اگر پہلے سے طے کرلیا جائے کہ فیصد اتنے روپے اتنی مدّت تک بغرض حفاظت (سنبھالنے کی) اتنی اُجرت ہوگی، یہ اُجرت لینا دُرست ہے، لیکن اس صورت میں اگر رقم ضائع ہوگئی تو ضمان لازم آئے گا۔(۱) الغرض امانت رکھی ہوئی رقم پر فی سیکڑہ دو روپے لینا جائز نہیں، سود ہے۔(۲) اس سے پہلے جن جن سے اس طرح لے چکے ہیں، انہیں بھی ان کی رقم واپس کرنا ضروری ہے۔(۳)
- (۱) وھی (الودیعۃ) امانۃ ھٰذا حکمھا مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب ۔۔۔ فلا تضمن بالھلاک إلّا إذا کانت الودیعۃ بأجر۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۶۶۴، طبع سعید)۔
- (۲) باب الربا، ھو فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال أی فضل أحد المتجانسین علی الآخر۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۱۳۵ طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
- (۳) والحاصل: إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۹۹، باب البیع الفاسد)۔

