بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

بچی‌ہوئی‌سرکاری‌دواؤں‌کا‌کیا‌کریں؟

سوال:۔

میرے خاوند ملازم پیشہ ہیں، جن کو محکمے کی طرف سے میڈیکل کی سہولت ہے، اور جو دوائیں ہمیں ملتی ہیں، وہ پیکنگ میں ہوتی ہیں، کچھ تو وقتی طور پر یعنی بیماری کے دوران کھائی جاتی ہیں، باقی بچ جاتی ہیں، جو کہ ہمارے پاس کافی جمع ہوجاتی ہیں۔ ان کا ہم کیا کریں؟ کیا کیمسٹ کو دے کر کوئی دُوسری اشیاء فنس یا ٹوتھ پاؤڈر وغیرہ لے سکتے ہیں، کیا یہ شرعاً جائز ہوگا؟ کیونکہ میں صوم و صلوٰۃ کی بہت پابند ہوں، بہت مشکور ہوں گی۔

جواب:۔

محکمے کی طرف سے جو دوائیں صرف اِستعمال کے لئے ملتی ہیں، ان کو آپ اِستعمال تو کرسکتی ہیں، مگر ان کو فروخت کرنے یا ان سے دُوسری اشیاء کا تبادلہ کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔ جو زائد ہوں وہ محکمے کو واپس کردیا کیجئے۔(۱) اور اگر ان کی واپسی ممکن نہ ہو تو ضرورت مند محتاجوں کو دے دیا کریں، یا کسی خیراتی شفاخانے میں بھجوادیا کریں۔(۲)

  1. (۱) ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا ﵞ النساء ٥٨۔
  2. (۲) والحاصل: أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم، وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ، ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۹۹، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔