بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

زبردستی‌مکان‌لکھوالینا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

میرے دوست نے اپنی اہلیہ کو بعض غیرشرعی ناپسندیدہ حرکتوں پر مسلسل تنبیہ کی، لیکن اس کی اہلیہ نے ان حرکات کو ترک کرنے کے بجائے شوہر کے ساتھ نفرت و حقارت اور خصومت کا رویہ اختیار کیا اور ان حرکتوں پر اصرار کرتی رہی۔ بہت سوچ بچار کے بعد ہمارے دوست نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی۔ اس پر ان کی اہلیہ اور اہلیہ کے رشتہ دار بے حد خفا ہوگئے اور ان کی اہلیہ نے مزید دو طلاقیں مانگ لیں، جو کہ ہمارے دوست نے دے دیں۔ پھر کسی بہانے سے ہمارے دوست کے سسرال والوں نے اپنے گھر بلالیا اور وہاں ان کے سسر صاحب اور سالے صاحب نے نہایت بے رحمی سے پٹائی کی، شدید پٹائی کے سبب ہمارے دوست حواس باختہ ہوگئے، پھر سالے صاحب نے اپنے ایک دوست کے پاس حبسِ بے جا میں ان کے گھر پر رکھوادیا، پھر صبح کو کورٹ میں لے جاکر زبردستی ڈرا دھمکاکر اپنا مکان بچوں کے نام ہبہ کرنے کے کاغذات پر دستخط کروالئے۔ ہمارے دوست نے جو غیرمتوقع شدید پٹائی کے سبب ذہنی طور پر ماؤف ہوچکے تھے کاغذات پر دستخط کردئیے (بسبب خوف کے)۔

۱:۔ اگر شوہر شرعی طور پر مطمئن ہوکر بیوی کو طلاق دے دے تو سسر صاحب اور سالے صاحب کا بے دردی سے طلاق دینے پر مارنا پیٹنا شرعاً جائز ہے؟

جواب:۔

شرعاً ناجائز اور ظلم ہے۔

۲:۔ کیا ایسا ہبہ شرعاً جائز ہے یا کہ ہمارے دوست شرعاً اپنا مکان واپس لینے کے حق دار ہیں؟

جواب:۔

اگر یہ شخص حواس باختہ تھا تو ہبہ صحیح نہیں ہوا،(۱) اور جو کچھ کیا گیا یہ ہبہ نہیں بلکہ غصب ہے۔(۲)

  1. (۱) وأما ما یرجع إلی الواھب، فھو أن یکون الواھب من أھل الھبۃ، وکونہ من أھلھا أن یکون حرًا عاقلًا بالغًا مالکًا للموھوب، حتّٰی لو کان عبدًا أو مکاتبًا ۔۔۔ أو کان صغیرًا أو مجنونًا أو لَا یکون مالکًا للموھوب لَا یصح ھٰکذا فی النھایۃ۔ (فتاویٰ عالمگیریۃ ص:۳۷۴ کتاب الھبۃ، الباب الأوّل)۔
  2. (۲) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ(قولہ بالباطل) بالحرام یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔ (تفسیر بغوی ج:۲ ص:۵۰)۔ أیضًا: عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال إمریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵ باب الغصب والعاریۃ)۔