بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

شرعی‌مسئلہ‌بتانے‌کی‌اُجرت‌لینا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

مجھے آپ کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر آپ سے کوئی دِینی مسئلہ بذریعہ ڈاک پوچھا جائے تو آپ اس کا جواب بذریعہ ڈاک دے دیتے ہیں، اگر بذاتِ خود آپ کے پاس آکر مسئلہ معلوم کیا جائے تو آپ بلا کسی قسم کے معاوضے کا اس کا حل بتاتے ہیں۔ لیکن میرے علم میں ایک ایسا شخص ہے جو اپنے آپ کو عالمِ دِین کہتا ہے، اگر اس سے بذریعہ خط وکتابت کوئی دِینی مسئلہ دریافت کیا جائے تو وہ بجائے اس کے کہ بذریعہ خط وکتابت جواب دے، وہ اپنے گھر پر سائل کو بلاتا ہے، اور اس کے مسئلے کا حل بتانے سے پہلے اس سے رقم طلب کرتا ہے، اور اس کی طلب کی ہوئی رقم دینے کے بعد وہ مسئلے کا حل بتاتا ہے۔ کیا اس شخص کا یہ فعل جائز ہے؟ پیسے لینے اور دینے والے دونوں شخصوں کے بارے میں بتائیں کہ کیا ان کا ایسا کرنا اَز رُوئے شریعت دُرست ہے؟

جواب:۔

شرعی مسئلہ بتانے پر رقم لینا جائز نہیں،(۱) ایسے عالم سے مسئلہ پوچھنا بھی گناہ ہے۔

  1. (۱) فقد اتفقت النقول عن أئمتنا الثلاثۃ أبی حنیفۃ، وأبی یوسف، ومحمد، رحمھم اللہ تعالٰی، أن الْإستئجار علی الطاعات باطل۔ (شرح عقود رسم المفتی ص:۳۷)۔