بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

کام‌چور‌کی‌تنخواہ‌جائز‌نہیں

سوال:۔

کوئی شخص سرکاری نوکری کرتا ہے لیکن اپنی ڈیوٹی پر کام کئے بغیر اپنی تنخواہ ہر ماہ وصول کرتا ہے، اور اس رقم کو اپنے اہل وعیال پر خرچ بھی کرتا ہے۔ زید اسی اِدارے کی یونین میں بھی ہے، اپنی سیٹ پر نہیں بیٹھتا ہے، نہ ہی اپنی ذمہ داری پوری طرح سے انجام دیتا ہے، اور گھر بیٹھے آفس میں حاضری رجسٹر میں اس کی حاضری بھی روزانہ معمول کے مطابق لگ جاتی ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں آج کل حرام، حلال کی پہچان ختم ہوکر رہ گئی ہے، بس لوگ کچھ نہیں دیکھتے ہیں، کام کئے بغیر اپنی تنخواہ بھی وصول کرلیتے ہیں، آیا کیا ان کی یہ رقم صحیح ہے؟ حلال ہے یا حرام؟ کیونکہ محنت کچھ نہیں اور رقم پوری وصول کی جاتی ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں خاص طور پر سرکاری اِداروں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی ڈیوٹی پر بھی نہیں جاتے ہیں اور ہر ماہ تنخواہ پوری وصول کرتے ہیں۔

جواب:۔

یہ تو ظاہر ہے کہ سرکاری ملازمین کو جو تنخواہ ملتی ہے وہ ان کی کارکردگی کا معاوضہ ہے، اور کام کے جو اوقات مقرّر ہیں وہ ان کی کارکردگی کا پیمانہ ہیں۔ اب اگر ایک ملازم کام پر جاتا ہی نہیں، یا جاتا ہے مگر جتنا وقت اس کے کام کے لئے مقرّر ہے، اتنے وقت کام نہیں کرتا، تو گویا وہ بغیر معاوضے کے تنخواہ لیتا ہے، لہٰذا اس کی یہ تنخواہ ناجائز اور حرام ہے،(۱) قرآنِ کریم میں ان لوگوں کے لئے ہلاکت کی وعید سنائی ہے جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔(۲) حضرت مفتی محمد شفیع تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قرآن وحدیث میں ناپ تول میں کمی کرنے کو حرام قرار دِیا ہے، کیونکہ عام طور سے معاملات کا لین دین انہی دو طریقوں سے ہوتا ہے، انہی کے ذریعے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حق دار کا حق ادا ہوگیا یا نہیں؟ لیکن مقصد اس سے ہر ایک حق دار کا حق پورا پورا دینا ہے، اس میں کمی کرنا حرام ہے ۔۔۔ مزدور ملازم نے جتنے وقت کی خدمت کا معاہدہ کیا ہے، اس میں سے وقت چرانا اور کم کرنا بھی اس میں داخل ہے، وقت کے اندر جس طرح محنت سے کام کرنے کا عرفِ عام میں معمول ہے، اس میں سستی کرنا بھی ’’تطفیف‘‘ ہے، اس میں عام لوگوں میں یہاں تک کہ اہلِ علم میں بھی غفلت پائی جاتی ہے، اپنی ملازمت کے فرائض میں کمی کرنے کو کوئی گناہ ہی نہیں سمجھتا، أَعَاذَنَا اللہُ مِنْہُ! ‘‘ (معارف القرآن ج:۸ :۶۹۴)

پس جو ملازمین کام پر نہیں جاتے اور اپنی تنخواہ وصول کرلیتے ہیں، وہ خائن اور چور ہیں، اور ان کا تنخواہ وصول کرنا ناجائز ہے۔

  1. (۱) ایضاً حوالۂ بالا۔
  2. (۲) ﵟ وَيۡلٞ لِّلمُطَفِّفِينَ ١ ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكۡتَالُواْ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسۡتَوۡفُونَ ٢ وَإِذَا كَالُوهُمۡ أَو وَّزَنُوهُمۡ يُخۡسِرُونَ ﵞالمطففين : ١ إلي ٣۔