بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

کیا‌گورنمنٹ‌اِدارے‌کا‌ملازم‌اِنچارج‌کی‌اجازت‌سے‌وقت‌سے‌پہلے‌جاسکتا‌ہے؟

سوال:۔

میں ایک ایسے گورنمنٹ اِدارے میں کام کرتا ہوں جہاں ساڑھے سات گھنٹے کی ڈیوٹی ہے، جبکہ کام چار پانچ گھنٹے میں ہوجاتا ہے، اس لئے ورکرز، سیکشن اِنچارج کی اِجازت سے اور بعض بغیر اِجازت کے ڈیڑھ دو گھنٹے قبل گھروں کو چلے جاتے ہیں، اور وقت پورا نہیں کرتے۔ ورکرز کا یہ عمل اور اِنچارج کا اِجازت دینے والا عمل کہاں تک صحیح ہے؟

جواب:۔

اگر متعلقہ کام ختم ہوگیا ہو تو اِنچارج کی اِجازت سے جاسکتے ہیں، اگر کام پڑا ہوا ہے تو اس کی اِجازت سے بھی بغیر شدید عذر کے جانا جائز نہیں۔(۱)

  1. (۱) وفی الھندیۃ: وفی الفتاوی الفضلی رحمہ اللہ: إذا استأجر رجلًا لیومًا لیعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذالک العمل إلٰی تمام المدۃ ولَا یشغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ۔ وفی فتاویٰ سمرقند: قد قال بعض مشائخنا رحمھم اللہ تعالٰی ان لہ یؤدی السُّنَّۃ أیضًا واتفقوا أنہ لَا یؤدی نفلًا وعلیہ الفتویٰ، وکذا فی الذخیرۃ۔ (الفتاوی الھندیۃ ج:۴ ص:۴۱۶، کتاب الْإجارۃ، الباب الثالث فی الأوقات التی ۔۔۔إلخ)۔ قال العلامۃ ابن عابدین: (قولہ ولیس للخاص ان یعمل لغیرہ) بل ولَا أن یصلی النافلۃ قال فی التتارخانیۃ وفی فتاویٰ لفضلی وإذا استأجر رجلًا یومًا یعمل کذا فعلیہ ان یعمل ذالک العمل إلٰی تمام المدۃ ولَا یشتغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ، وفی فتاویٰ سمرقند وقد قال بعض مشائخنا رحمھم اللہ تعالٰی لہ ان یؤدی السُّنَّۃ أیضًا واتفقوا أنہ لَا یؤدی نفلًا وعلیہ الفتویٰ۔ (شامی ج:۶ ص:۷۰، باب ضمان الأجیر)۔