بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

لنچ‌ٹائم‌میں‌کسی‌ذاتی‌کام‌سے‌باہر‌جانا

سوال:۔

اِدارے میں لنچ ٹائم مقرّر ہے، اس کے علاوہ کسی ذاتی کام سے باہر جانا کہاں تک صحیح ہے؟

جواب:۔

ذاتی کام سے باہر جانا جائز نہیں، البتہ ایسی معمولی ضرورت جس کے لئے جانے کی عرفاً اِجازت ہوتی ہے، اس کے لئے جانا جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) وفی الھندیۃ: وفی الفتاوی الفضلی رحمہ اللہ: إذا استأجر رجلًا لیومًا لیعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذالک العمل إلٰی تمام المدۃ ولَا یشغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ۔ وفی فتاویٰ سمرقند: قد قال بعض مشائخنا رحمھم اللہ تعالٰی ان لہ یؤدی السُّنَّۃ أیضًا واتفقوا أنہ لَا یؤدی نفلًا وعلیہ الفتویٰ، وکذا فی الذخیرۃ۔ (الفتاوی الھندیۃ ج:۴ ص:۴۱۶، کتاب الْإجارۃ، الباب الثالث فی الأوقات التی ۔۔۔إلخ)۔ قال العلامۃ ابن عابدین: (قولہ ولیس للخاص ان یعمل لغیرہ) بل ولَا أن یصلی النافلۃ قال فی التتارخانیۃ وفی فتاویٰ لفضلی وإذا استأجر رجلًا یومًا یعمل کذا فعلیہ ان یعمل ذالک العمل إلٰی تمام المدۃ ولَا یشتغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ، وفی فتاویٰ سمرقند وقد قال بعض مشائخنا رحمھم اللہ تعالٰی لہ ان یؤدی السُّنَّۃ أیضًا واتفقوا أنہ لَا یؤدی نفلًا وعلیہ الفتویٰ۔ (شامی ج:۶ ص:۷۰، باب ضمان الأجیر)۔