خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
چھٹیکےاوقاتمیںملازمکوپابندکرنا
سوال:۔
میں پاکستان اسٹیل میں بطور اسسٹنٹ منیجر الیکٹریکل (گریڈ ۱۷ کے برابر) ملازم ہوں۔ نماز روزہ اور دُوسری اسلامی تعلیمات پر نہ صرف خود عمل کرتا ہوں، بلکہ میرے بیوی بچے بھی عمل کرتے ہیں۔ جھوٹ نہیں بولتا، سودی رقم سے اِجتناب کرتا ہوں، باقاعدگی سے زکوٰۃ ادا کرتا ہوں، حج ادا کرچکا ہوں، خوفِ خدا رکھتا ہوں، غرضیکہ اپنے تئیں ایک صالح مسلمان میں جو خوبیاں ہونی چاہئیں اپنی طرف سے ان پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ پاکستان اسٹیل کے قریب گلشن حدید میں قیام پذیر ہوں، اپنی ڈیوٹی دِل جمعی سے ادا کرتا ہوں۔
کیونکہ ڈیوٹی بھی عبادت سمجھ کر اَدا کرتا ہوں، لہٰذا اپنے موجودہ عہدے سے بھی زیادہ معلومات حاصل کیں اور اپنی ذمہ داریوں کو خوش اُسلوبی سے بجا لاتا ہوں۔ اور اس محاورے کے مصداق کہ ’’جس نے سبق یاد کیا اسے چھٹی نہ ملی‘‘ میرے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے، اور میری ایمان داری، کام سے لگن اور معلومات کی وجہ سے مجھ سے میرے عہدے سے زیادہ کام لیا جاتا ہے، اور وہ میں بھی ادا کرتا ہوں۔ جبکہ سرکاری نوکری ہونے کی وجہ سے میرے عہدے کے برابر بلکہ مجھ سے بڑے عہدے والے عیاشی کرتے ہیں اور ان کی نوکری برائے نام ہوتی ہے۔ نتیجتاً ان کے حصے کا بوجھ کسی نہ کسی حوالے سے مجھے اور مجھ جیسے کچھ دُوسرے (آٹے میں نمک کے برابر) افراد کو اُٹھانا پڑتا ہے۔ ڈیوٹی ٹائم میں محنت کی بات تو الگ رہی، اکثر ڈیوٹی کے بعد مجھے نہ صرف اپنی بلکہ دُوسرے لوگوں کی سائٹ (پلانٹ) پر رُکنا پڑتا ہے، اور چھٹی والے دِن یا رات کو اکثر وبیشتر مجھے گھر سے فالٹ دُرست کرنے کے لئے اپنی بلکہ دُوسرے لوگوں کی سائٹ (پلانٹ) پر بلایا جاتا ہے، صرف اس لے کہ دُوسرے لوگ نہ ذمہ داری محسوس کرتے ہیں اور نہ انہوں نے کبھی کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اکثر اوقات جب بھی چھٹیاں آتی ہیں (جیسے ابھی حال ہی میں آنے والی عید پر حکومت کی طرف سے منگل، بدھ، جمعرات کی چھٹیوں کا اِعلان کیا گیا، جبکہ جمعہ، ہفتہ کو اسٹیل ملز کی اپنی ہفتہ واری چھٹی ہوتی ہے، لہٰذا مسلسل پانچ دن کی چھٹی ہوگئی) تو میری ڈیوٹی لگادی جاتی ہے یا مجھے ۲۴گھنٹے گھر پر رہنے پر مجبور کردیا جاتا ہے، کیونکہ میرا تمام خاندان کراچی میں رہتا ہے، لہٰذا مجھے مختلف تہواروں کے موقع پر سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ دُوسرے لوگ مزے اُڑاتے ہیں۔ ہاں اگر میں بہانہ کردوں کہ میرا کوئی فلاں بیمار ہے تو پھر مجھے تہواری چھٹیوں میں گھر پر رہنے پر مجبور کرنا مشکل ہوگا۔ اسی طرح جب دن بھر کی اِیمان داری کے ساتھ انجام دی گئی ڈیوٹی کے بعد میں رات کو آرام کر رہا ہوں اور رات ۲بجے گاڑی میرے گھر پر کھڑی ہو کہ چلئے صاحب! آپ کو اسٹیل ملز میں یاد کیا جارہا ہے، تو کیا میں اپنی ناسازیٔ طبیعت کا بہانہ کرکے اپنی جان بچاسکتا ہوں یا نہیں؟ اور کیا ایسا کرنا جھوٹ بولنے کے زُمرے میں آئے گا یا نہیں؟ اور کیا اس طرح کا بہانہ کرکے میں گناہگار ہوں گا یا نہیں؟
جواب:۔
آپ امانت داری سے کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ خوش رکھے، ایک مسلمان کو یہی کرنا چاہئے۔
۲:۔ ڈیوٹی کے اوقات میں تو آپ کے ذمے کام ہے ہی اور آپ کو کرنا بھی چاہئے، اور زائد وقت میں اگر آپ سے کام لیا جاتا ہے تو آپ کو اس کا الگ معاوضہ ملنا چاہئے۔
۳:۔ زائد وقت یا چھٹیوں کا وقت آدمی کے اپنے ضروری تقاضوں اور ضرورتوں کے لئے ہوتا ہے، لہٰذا آپ اگر نہیں جاسکتے تو آپ کے لئے عذر کردینا جائز ہے، کوئی مناسب لفظ اِستعمال کیا جائے تاکہ جھوٹ نہ ہو، مثلاً: ’’میری طبیعت کچھ صحیح نہیں‘‘ صحیح فقرہ ہے، کیونکہ آدمی کی طبیعت کچھ نہ کچھ تو ناساز رہا ہی کرتی ہے۔
۴:۔ عید کی چھٹیوں پر آپ کو پابند کردیا جانا بھی صحیح نہیں، اگر آپ کو اس کا زائد معاوضہ دیا جائے تب تو ٹھیک، ورنہ آپ کو عذر کردینا چاہئے کہ مجھے کچھ ذاتی کام ہیں۔ اور مناسب ہوگا کہ آپ اپنے دفتر کو چٹ لکھ دیا کریں کہ ایسے موقع پر آپ کو نہ بلایا جائے۔
۵:۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر کاریگر اپنی ڈیوٹی پوری دیانت داری سے ادا کرتا ہو، تو اپنے گھنٹے کام کرنے بعد اس کے لئے آرام کرنا بے حد ضروری ہے، ورنہ وہ اگلے دن کا کام ٹھیک سے نہیں کرسکتا، اس لئے آپ کو عذر کردینا جائز ہے کہ چھٹی کے اوقات میں آپ کو پریشان نہ کیا جائے۔

