خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
وقفجائیدادکوفروختکرنا
سوال:۔
مرکزی جامع مسجد کو ۱۹۶۹ء میں ایک آدمی نے ایک دُکان اور ایک مکان وقف کیا تھا، اس وقت جو کرائے دار مکان، دُکان پر قابض تھا، وہ ۷۰روپے ماہ وار کرایہ ادا کر رہا تھا، بعد میں اس میں ۳۰روپے اِضافہ ہوا، جو کہ ابھی تک وصول ہو رہا ہے، لیکن اب مکانوں، دُکانوں کے کرائے میں اس قدر اِضافہ ہوچکا ہے کہ مکان ودُکان بہ آسانی ۵۰۰۰روپے ماہانہ پر جاسکتے ہیں، اب قابض کرائے دار کرائے کے اِضافے کے مطالبے پر لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتا ہے، اور عدالتی طریق سے بھی قانونی سقم کی وجہ سے بے دخلی ممکن نہیں۔ جبکہ اس جائیداد کو لاکھوں میں فروخت کیا جاسکتا ہے۔ آپ فرمائیں کہ جائیدادِ مذکورہ مسجد انجمن فروخت کرکے نئی جائیداد خرید سکتی ہے یا رقم مسجد کی توسیع وتعمیر پر خرچ کرسکتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔
وقف جائیداد شرعی ضرورت کے لئے فروخت کی جاسکتی ہے، اس لئے اس دُکان کو فروخت کرکے رقم مسجد کی توسیع پر صَرف کردی جائے۔(۱)
- (۱) الثالثۃ: أن یجحدہ الغاصب ولَا بینۃ: أی وأراد دفع القیمۃ، فللمتولی أخذھا، یشتری بھا بدلًا۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۳۸۸، کتاب الوقف، مطلب لَا یستبدل العامر إلّا فی أربع، وکذا فی البحر الرائق ج:۵ ص:۴۰۵، کتاب الوقف، طبع رشیدیۃ)۔

