بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

بیرون‌ملک‌سے‌آنے‌والوں‌کو‌ملنے‌والا‌ٹی‌آر‌فارم‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

کیا ٹی آر فارم فروخت کرنا جائز ہے؟ اس کی تفصیلی صورت یہ ہے کہ بیرون ملک دو سال قیام کے بعد حکومت ڈیوٹی فری شاپس سے ایک عدد ایئرکنڈیشنر بغیر کسٹم کے خریدنے کی رعایت دیتی ہے، تو بعض لوگ یہ فارم فروخت کردیتے ہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ اس کے فارم پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے، پھر صاحبِ فارم اس کارروائی کو مکمل کرانے کے بعد خود خرید سامان ایجنٹوں کو فروخت کرتا ہے، اگر کسی شخص نے اس طرح یہ فارم فروخت کیا تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو اس سے حاصل ہونے والی رقم کا کیا کرے؟

جواب:۔

اگر یہ فارم (اِجازت نامہ) خاص باہر رہنے والے کے نام سے کسی کو ملتا ہے، اور کسی دُوسرے شخص کو اسے استعمال کرنے کی حکومت کی طرف سے اِجازت نہیں ہوتی تب تو اس کی خرید فروخت کے ناجائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اور اگر قانوناً کوئی دُوسرا شخص بھی اس کو اِستعمال کرسکتا ہے تو بھی محض اجازت نامے کو فروخت کرنا جائز نہیں۔(۱) اور فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اصل مالک کو واپس کرنا واجب ہے، اپنے اِستعمال میں لانا حلال نہیں۔(۲)

  1. (۱) قال فی الأشباہ لَا یجوز الْإعتیاض عن الحقوق المجردۃ (قولہ لَا یجوز) قال فی البدائع الحقوق المجردۃ لَا تحتمل التملیک۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۴ ص:۵۱۸، کتاب البیوع)۔
  2. (۲) إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۹۹، مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔