بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

عرب‌ممالک‌میں‌کسی‌کے‌نام‌پر‌کاروبار‌کرکے‌اسے‌کچھ‌پیسے‌دینا

سوال:۔

یہاں متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق کوئی غیرملکی اپنے نام پر کاروبار نہیں کھول سکتا، مگر عملاً اس کے لئے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ لوگ یہاں کی شہریت رکھنے والے کسی مواطن کے نام پر کاروبار کھول لیتے ہیں، یعنی حکومت اور بلدیہ وغیرہ کے کاغذوں میں کاروبار یہاں کے کسی شہری کے نام پر ہوتا ہے، مگر حقیقت میں کاروبار کسی غیرملکی کا ہوتا ہے، جس عربی مواطن کے نام پر کاروبار کھولا جاتا ہے وہ صرف تھوڑی سی سالانہ مخصوص فیس وصول کرتا ہے، یہ فیس وہ غیرسرکاری طور پر لیتا ہے، کبھی کبھی کوئی متقی شخص یا کوئی دوست عربی ہو تو وہ یہ فیس نہیں لیتا۔ اسی طرح اگر کوئی غیرملکی کہیں ملازمت کرتا ہے تو وہ بھی کبھی کبھار مندرجہ بالا طریقے سے کسی عربی کے نام پر کاروبار کھول لیتا ہے۔ دُوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی غیرملکی کوئی بڑا کاروبار کھولنا چاہے تو حکومت کے کاغذات میں غیرملکی اس کاروبار میں ۴۵فیصد اور یہاں کا شہری ۵۵فیصد پارٹنر ہوتا ہے، کہیں کہیں یہ پارٹنرشپ ۷۵ فیصد اور ۲۵فیصد بھی ہوتی ہے۔ یہ سب حکومت کے کاغذات میں ہوتا ہے، مگر حقیقت میں پورا کاروبار غیرملکی کا ہوتا ہے، اس میں بھی یہاں کا شہری مخصوص سالانہ فیس وصول کرتا ہے۔ ایک اور بات یہ ہے کہ حکومت کے تقریباً سب ہی لوگ ان حالات سے باخبر ہیں، یہاں مقامی لوگ تقریباً ۲۰فیصد اور غیرملکی ۸۰فیصد کے قریب ہیں، مندرجہ بالا حالات میں کاروبار کی آمدنی حلال ہوگی یا نہیں؟

جواب:۔

شرعاً تو کاروبار کے لئے کوئی قید نہیں، صرف کاروبار حلال ہونا چاہئے، لیکن آج کل حکومتیں غیرملکیوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ البتہ اگر کوئی مواطن یعنی ملک کا شہری شریکِ کاروبار ہو تو اِجازت مل جاتی ہے، اس صورت میں جیسا کہ آپ نے کہا ہے بعض لوگ تو کچھ پیسے لیتے ہیں اور بعض لوگ پیسے نہیں لیتے، بہرحال کاروبار صحیح ہے۔