بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

ناجائز‌قبضے‌والی‌زمین‌کی‌فروخت‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

بعض لوگوں کے پاس نہ اپنا مکان ہوتا ہے، نہ اتنا مال کہ وہ اس سے رہنے کے لئے مکان بناسکیں، اس قسم کے بعض لوگوں نے بعض علاقوں میں واقعی خالی زمینوں پر قبضہ کرکے ان پر رفتہ رفتہ مکانات تعمیر کرلئے، بعد اَزاں ان لوگوں نے ان زمینوں اور مکانات کی خرید وفروخت بھی شروع کردی، صورتِ حال یہ ہے کہ تادمِ تحریر گورنمنٹ نے یہ زمین کسی کو الاٹ نہیں کی ہے، لیکن لوگ اس کی خرید وفروخت میں مصروف ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

جواب:۔

آدمی اپنی مملوکہ چیز کو فروخت کرنے کا حق رکھتا ہے، جو چیز اس کی ملکیت نہیں اس کو فروخت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا، لہٰذا سرکاری اِجازت کے بغیر جو لوگ زمین پر قابض ہیں، وہ اس کو فروخت کرنے کے مجاز نہیں۔(۱)

  1. (۱) إذ من شرط المعقود علیہ أن یکون موجودًا مالًا متقوّمًا وأن یکون ملک البائع فیما یبیع لنفسہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۵۸)۔ لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ أو وکالۃ منہ۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۶۱)۔