بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

مدرسہ‌کی‌وقف‌شدہ‌زمین‌کی‌پیداوار‌کھانا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

ہمارے شہر کرنال (انڈیا) میں ایک آدمی جو لاوارث تھا، اس نے اپنی زمین مدرسہ عربیہ میں دے دی تھی، اور وہ آدمی (انڈیا میں) فوت ہوگیا تھا۔ وہ مدرسہ پاکستان میں بھی ابھی تک چلتا آرہا ہے، اب جو آدمی جگہ دے گیا تھا اس کی اولاد میں سے تقریباً ۸ویں پشت سے ایک آدمی ہے وہ کہتا ہے کہ ہمارے دادا نے اس مدرسہ کے لئے جگہ دی تھی، یہ مدرسہ ہمارا ہے، اس کے اندر کسی کا حق نہیں۔ وہ آدمی جبراً اس مدرسہ کی آمدنی کھا رہا ہے، بہانہ یہ بنایا ہوا ہے کہ مدرسہ میں، میں پڑھاتا ہوں، لیکن مدرسہ میں وہ ہفتے میں ایک یا دو دن حاضر رہتا ہے، بچے ایک دُوسرے کا سبق سنتے ہیں۔ ایک تو وہ شہر والوں کے ساتھ جھگڑتا ہے، دُوسرے بچوں کی زندگی تباہ ہو رہی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں کہ آیا وہ آدمی جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرے دادا کا مدرسہ ہے، اس میں کسی کا حق نہیں، کیا یہ دُرست ہے؟ کیونکہ ہمارے شہر کے قریب کوئی ایسا بڑا مدرسہ نہیں ہے کہ جہاں بچے جاکر تعلیم حاصل کریں، اور جو رقبہ اس آدمی نے دیا تھا، تقریباً ۵۰ ایکڑ رقبہ ہے، اگر شہر والے مل کر اس کو مدرسے سے نکال دیں تو کیا شرعاً کوئی ممانعت تو نہیں؟

جواب:۔

اس شخص کا مدرسہ پر کوئی حق نہیں، شہر والوں کو چاہئے کہ اس کو نکال دیں اور مدرسہ کا انتظام کسی معتبر آدمی کے ہاتھ میں دیں۔ اس شخص کا مدرسہ کی وقف زمین کی پیداوار کھانا بھی جائز نہیں۔(۱)

  1. (۱) الوقف ۔۔۔ وعندھما حبس العین علٰی حکم ملک اللہ تعالٰی فیزول ملک الواقف عنہ إلی اللہ تعالٰی علٰی وجہ تعود منفعتہ إلی العباد فیلزم ولَا یباع ولَا یوھب ولَا یورث۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۳۷، کتاب الوقف)۔ قال ابن نجیم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ والحاصل أن المشایخ رجحوا قولھما وقال الفتاویٰ علیہ۔ (بحر ج:۵ ص:۱۹۴، کتاب الوقف)۔