بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

اپنی‌کتابوں‌کے‌حقوقِ‌طبع‌اولاد‌کو‌لکھ‌کر‌دینا

سوال:۔

زید نے عرصہ دراز پہلے اپنی چند قلمی تالیفات اپنے پسران کو ہبہ بالقبض کیں، کسی کو اصل مسوّدہ اور کسی کوفوٹواسٹیٹ نقل، تاکہ جس کے لئے بھی ممکن ہو طبع کرالے اور حقوقِ طبع کی کسی کو تصریح نہیں کی تھی، کیونکہ پہلے تو ان حقوق کا جواز ہی معلوم نہیں تھا، اب ان میں سے ایک پسر کہتا ہے کہ اگر مجھے حقوق الطبع دو تو میں طبع کراکر فروخت کروں گا، اب زید ان پسران میں سے کسی ایک یا دو کو حقوق الطبع لکھ دے خواہ دُوسرے پسران راضی ہوں یا نہ ہوں تو آیا شرعاً یہ اِجازت نامہ لکھ کر دینا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب:۔

بہتر یہ ہے کہ کسی ایک لڑکے کے نام حقوقِ طبع نہ کئے جائیں، بلکہ تمام لڑکوں کو اس میں شریک کیا جائے، تاکہ اولاد کے درمیان بدمزگی پیدا نہ ہو،(۱) واللہ اعلم!

  1. (۱) وذھب الجمھور إلٰی أن التسویۃ مستحبۃ، فإن فضل بعضًا صح وکرہ، وحملوا الأمر فی حدیث النعمان علی الندب والنھی علی التنزیہ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۶ ص:۹۶،۹۷ کتاب الھبۃ)۔