بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

بغیر‌اِجازت‌کتاب‌چھاپنا‌اخلاقاً‌صحیح‌نہیں

سوال:۔

آج کل بازار میں باہر کے ملکوں کی کتابیں جو کہ ہمارے کورس میں شامل ہوتی ہیں اور کچھ ثانوی حیثیت سے مددگار ہوتی ہیں، طالب علموں کو نہایت ارزاں قیمت پر مل رہی ہیں۔ ایک کتاب جو کہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے تک کی ملتی تھی، اب وہی بیس پچّیس روپے کے لگ بھگ مل جاتی ہے۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ پاکستانی پبلشرز باہر کے پبلشرز کی یہ کتابیں بغیر اجازت کے چھاپ رہے ہیں۔ اگرہم یہ کتابیں باہر کے پبلشرز کی خریدنے جائیں تو اوّل تو یہ دستیاب نہیں ہوتیں، اور دُوسرے اگر کبھی یہ کتابیں اُونچے علاقے والے کتاب گھروں میں مل بھی جائیں تو یہ ہماری قوّتِ خرید سے اکثر باہر ہوتی ہیں، صرف امیروں کے بچے ہی شاید خرید سکتے ہیں۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ ان کتابوں کی اصل قیمت اتنی نہیں ہوتی ہے جتنی زَرِمبادلہ کے چکر، عمدہ کاغذ کا ہونا، درمیان میں ایک دو منافع خور، باہر کی کمپنی کے مفادات اور لکھنے والے کا کچھ حصہ لگانے سے ان کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ باہر کے ملکوں میں ان کتابوں کا خریدنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا کہ ہمارے ملک میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان باہر کی کتابوں کے دُوسرے ایڈیشن جو کہ یہاں جملہ حقوق محفوظ ہونے کے باوجود بلااجازت چھپتے ہیں، ان کا مطالعہ اور استفادہ دِینی لحاظ سے جائز ہے کہ نہیں؟ کچھ کہتے ہیں کہ بالکل غلط ہے اور تم اس غلط کام میں ان کے شریک بن جاتے ہو، ان کے معاون و مددگار ہوجاتے ہو۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ علم و حکمت ہے، اور حکمت کو ایک گمشدہ لعل سمجھو۔ اور یہ کہ علم کسی کے باپ کی میراث نہیں، یہ لوگ علم کے خزانے پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں، یہ باہر کے ملک والے ہم غریبوں کو زَرِ مبادلہ کے ہیرپھیر سے لوٹتے ہیں، خواہ اسلحہ ہو یا کتاب ہو یا مشینری۔ اب تمہیں کم قیمت پر کتابیں مل رہی ہیں، خاموشی سے استعمال کرو، استفادہ کرو، ان چکروں میں پڑگئے تو پیچھے رہ جاؤگے، وہی لوگ استفادہ کریں گے جو کہ کسی چیز میں بھی صحیح یا غلط کو نہیں دیکھتے۔ کچھ ایسا ہی مسئلہ فوٹواسٹیٹ کا بھی ہے کہ جو کتابیں ہماری قوّتِ خرید سے باہر ہوتی ہیں، ہم ان کو فوٹواسٹیٹ کروالیتے ہیں یا کچھ اسباق درکار ہوں تو ان کی بھی فوٹواسٹیٹ کروالیتے ہیں، گو کہ کتاب پر جملہ حقوق محفوظ اور فوٹواسٹیٹ نہ کروانے کی تاکید کی جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ہمارا کیا رویہ ہونا چاہئے؟

جواب:۔

باہر کی کتابیں جو ہمارے یہاں بغیر اِجازت چھاپ لی جاتی ہیں اخلاقاً ایسا کرنا صحیح نہیں، تاہم جس نے کتاب یہاں چھاپی ہے وہ اس کا شرعاً مالک ہے، اس سے کتاب خریدنا جائز ہے، اور اس سے استفادہ کرنا شرعاً دُرست ہے۔ یہی مسئلہ فوٹواسٹیٹ کا ہے۔(۱)

  1. (۱) چونکہ اس مسئلے میں کہ آیا کسی کتاب کے مصنف یا متعلقہ اِدارے کو شرعاً حقوقِ طبع محفوظ کرانے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ اکابر کی آراء مختلف ہیں، بعض اکابر مثلاً حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ وغیرہ اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: فتاویٰ رشیدیہ ص:۱۷۷ طبع کراچی، فتاویٰ محمودیہ جدید ج:۱۶ ص:۱۸۳ تا ۱۸۶، جواہر الفقہ ج:۲ ص:۳۳۵ تا ۳۳۸)۔ جبکہ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ مصنف کو حقوقِ طبع محفوظ کرانے کا حق حاصل ہے، کسی کو بغیر اِجازت کے طبع کرانا جائز نہیں۔ ان حضرات میں سے شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہٗ، دکتور وہبۃ الزحیلی صاحب، مفتی نظام الدین اعظمی صاحبؒ مفتی دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی سیّد عبدالرحیم صاحب لاجپوریؒ، راندی ضلع سورت، وغیرہ سرِفہرست ہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ ج:۱ ص:۱۲۲، فقہی مقالات، نظام الفتاویٰ ج:۲ ص:۳۱۴ کتاب المعاملات، الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۴ ص:۲۸۶ القسم الثانی، احکام الحق، حق التالیف والنشر والتوزیع، فتاویٰ رحیمیہ ج:۳ ص:۱۴۲)۔