خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
ڈیوٹیکےدورانسونےوالےکیتنخواہکاشرعیحکم
سوال:۔
میں جس پلانٹ پر کام کرتا ہوں، وہاں شفٹوں میں فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔ صبح، شام اور رات کی تین شفٹیں مختلف اوقات میں ہوتی ہیں، ہمارے پلانٹ کی نوعیت ایسی ہے کہ اگر کسی دُوسرے پلانٹ میں خرابی پیدا ہوجائے تو اس صورت میں ہمارا پلانٹ چلایا جاتا ہے، اور رات کے وقت تو شاذونادر ہی اس کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن ڈیوٹی اس لئے ہوتی ہے کہ اتفاقاً ایمرجنسی کے طور پر پلانٹ چلانے کی ضرورت پڑجائے، اس لئے تمام افراد کا موجود ہونا نہایت ضروری ہے، اس صورت میں جبکہ پلانٹ بند ہو، خصوصاً رات کے وقت تو تقریباً ڈیڑھ یا ڈھائی بجے کے قریب تمام اَفسران اور کارکنان سوجاتے ہیں۔ آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا رات میں ڈیوٹی کے دوران جبکہ کوئی کام بھی نہ ہو اور نیند بھی ایک فطری عمل ہے، ہمارا رات کے وقت سونا شریعت کی رُو سے کیسا ہے؟ اور اس قسم کی نوکری سے حاصل شدہ تنخواہ آیا حرام ہے یا حلال؟
جواب:۔
اُصولاً جن لوگوں کی اس وقت ڈیوٹی ہو، انہیں سونا نہیں چاہئے، تاہم اگر ڈیوٹی میں حرج واقع نہ ہو، اور ضرورت پیش آنے پر فوراً جاگ جائیں تو غالباً اس میں چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہوگا، اس لئے جائز ہے۔(۱)
- (۱) والأجیر الخاص الذی یستحق الأجرۃ بتسلیم نفسہ فی المدۃ وإن لم یعمل کمن استوجر شھرًا للخدمۃ أو لرعی الغنم وإنما سمی أجیر وحد لأنہ لَا یمکنہ أن یعمل لغیرہ لأن منافعہ فی المدۃ صارت مستحقۃ لہ والأجیر مقابل بالمنافع (ھدایۃ ج:۳ ص:۳۰۸، کتاب الْإجارات، باب ضمان الأجیر)۔ وفی الدر المختار: الثانی وھو الأجیر الخاص ویسمٰی أجیر وحد، وھو من یعمل لواحد عملًا مؤقتًا بالتخصیص ۔۔۔ کمن استؤجر شھرًا للخدمۃ، أو شھر لرعی الغنم المسمٰی بأجر مسمی ۔۔۔ ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ، ولو عمل نقص من أجرتہ بقدر ما عمل۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۶۹، ۷۰، باب ضمان الأجیر، کتاب الْإجارۃ)۔

