بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

اساتذہ‌کا‌زبردستی‌چیزیں‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

’’الف‘‘ ایک اسکول کا ہیڈماسٹر ہے، ہر سال شروع ہونے پر اپنے اسکول میں طالب علموں کو ڈرائنگ اور خوشخطی کی کتابیں جبراً اور لازمی فروخت کرتا ہے، جبکہ محکمۂ تعلیم کی جانب سے وہ ایسا نہیں کرسکتا، اور اس کا کمیشن اپنے اساتذہ میں برابر برابر تقسیم کردیتا ہے، اور اس پر دلیل یہ دیتا ہے کہ یہ تو کاروباری نفع ہے۔ کیا وہ صحیح کہتا ہے؟

جواب:۔

اگر کوئی طالب علم اس سے اپنی خوشی سے خریدے تب تو ٹھیک ہے، مگر زبردستی ناجائز ہے۔(۱)

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ ﵞ النساء ٢٩۔ ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵، کتاب الغصب والعاریۃ)۔