خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
کاروبارکےلئےملکسےباہرجاناشرعاًکیساہے؟
سوال:۔
اگر کسی مسلمان کا ملک میں جائیداد یا گزر بسر کے لئے دو تین لاکھ روپے بینک بیلنس ہو اور وہ مزید پیسے کے لالچ میں اپنے ملک، خاندان اور بیوی بچوں سے دُور رہ کر نوکری کرے تو معلوم کرنا ہے کہ شریعت میں اس بارے میں کیا حکم ہے؟ یہ بھی بتادُوں کہ ہم لوگ سال کے بعد ڈیڑھ مہینے کی چھٹی پر ملک آسکتے ہیں۔
جواب:۔
آپ کی تحریر میں دو مسئلے غور طلب ہیں:
اوّل:۔ یہ کہ جس شخص کے پاس اپنی گزر بسر کے بقدر ذریعۂ معاش موجود ہو کیا اس کو اسی پر قناعت کرنی چاہئے یا طلبِ مزید میں مشغول ہونا چاہئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر حلال ذریعہ سے طلبِ مزید میں مشغول ہو تو جائز ہے، بشرطیکہ فرائضِ شرعیہ سے غفلت نہ ہو، لیکن اگر قناعت کرے اور اپنے اوقات کو طلبِ مزید کے بجائے آخرت کے بنانے میں صرف کرے تو اَفضل ہے۔(۱)
دوم:۔ یہ کہ کیا طلبِ مزید کے لئے اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر باہر ملک جانا دُرست ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حقوق العباد کا مسئلہ ہے، ماں باپ، بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنا اس کے ذمہ ہے، اگر وہ اپنا حق معاف کرکے جانے کی اجازت دے دیں تو دُرست ہے، ورنہ نہیں۔ اور اجازت و رضامندی بھی صرف زبان سے نہیں بلکہ واقعی اجازت ضروری ہے۔(۲) میرے علم میں بہت سے ایسے واقعات ہیں کہ لوگ جوان نوبیاہتا بیویوں کو چھوڑ کر پردیس چلے گئے، پیچھے بیویاں گناہ میں مبتلا ہوگئیں۔ خود ہی فرمائیے! کہ اس ظلم و ستم کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اگر نوعمر بیویوں کو چھوڑ کر انہیں باہر بھاگنا تھا تو اس غریب کو کیوں قید کیا تھا؟
- (۱) عن أبی الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما طلعت الشمس إلّا وبجنبتیھا ملکان ینادیان یسمعان الخلائق غیر الثقلین یا أیھا الناس ھلمّوا إلٰی ربکم ما قل وکفٰی خیر مما کثر وألھٰی۔ (مشکٰوۃ ص:۴۴۵، کتاب الرقاق، الفصل الثالث)۔
- (۲) لَا یحل سفر فیہ خطر إلّا بإذنھما وما لَا خطر فیہ یحل بلا إذن، قال الشامی وما لَا خطر فیہ کالسفر للتجارۃ والحج والعمرۃ یحل بلا إذن إلأا أن خیف علیھا الضیعۃ۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۱۲۵)۔ ولو خرج المتعلم وضیع عیالہ یراعٰی حق العیال۔ (رد المحتار، کتاب الحظر والْإباحۃ ج:۶ ص:۴۰۸)۔

