خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
ڈاکٹریکےلئےدئیےگئےجھوٹےحلفنامےجمعکرواناشدیدترینگناہہےلیکنکمائیحلالہے
سوال:۔
ایک مدّت سے ذہنی کشمکش میں گرفتار ہوں، آپ سے رہنمائی کا طالب ہوں، قرآن اور حدیث کی روشنی میں مجھے میرے مسئلے کا حل بتائیں۔
میر اشمار ایک ماہر ڈاکٹر میں ہوتا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک میں دِین سے نابلد تھا، تین سال قبل میں ایف آر سی ایس کرنے لندن گیا، وہاں انڈیا سے آئی ہوئی تبلیغی جماعت سے سامنا ہوگیا، اس کے بعد سے میری دُنیا بدل گئی۔ حرام، حلال کا اِدراک ہوا، آپ کا کالم بڑی باقاعدگی سے پڑھتا ہوں، پچھلے دنوں حرام کی کمائی کے متعلق آپ کا جواب پڑھا کہ کس طرح گھرانے کا سربراہ اپنے پورے گھر کو حرام کی کمائی کھلا رہا ہے، اور آپ نے جس طرح دُوراندیشی سے اس کی بیوی کو حل بتایا کہ کسی غیرمسلم سے قرض لے کر گھر چلاؤ۔ میں اسی دن سے سخت مضطرب ہوں، میری کہانی یہ ہے کہ بظاہر اچھے نمبر ہونے کے باوجود جب کراچی میں میڈیکل میں داخل نہیں ملا تو میں نے جعلی ڈومیسائل بناکر پنجاب میں ڈاکٹری میں داخلہ لے لیا اور وہاں ہی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اب ذہن میں یہ کشمکش ہے کہ چونکہ میں نے ڈومیسائل بنواتے وقت حلف نامہ داخل کیا کہ میں لاہور میں پیدا ہوا ہوں، جو کہ جھوٹا حلف نامہ تھا، اس کے بعد مستقل رہائش یعنی پی آر سی بھی میں نے جعلی بنواکر داخل کیا، اس کے لئے بھی جھوٹا حلف نامہ داخل کیا۔ تیسری غلطی یہ کی کہ جب ڈاکٹری کا فارم بھرا تو اس میں بھی جھوٹے حلف نامے داخل کئے، جھوٹے لاہور کے ایڈریس لکھے۔ اب آپ مجھے قرآن وحدیث کی روشنی میں آگاہ فرمائیں کہ جیسی ڈگری کو حاصل کرنے کے لئے میں نے حلال اور حرام میں تمیز نہیں کی، جھوٹے حلف نامے داخل کئے، جھوٹ پر مبنی سرٹیفکیٹ (ڈومیسائل اور پی آر سی) جمع کرائے اور اگر میں یہ سب کچھ نہ جمع کراتا تو آج ڈاکٹر نہ ہوتا، نہ ہی داخلہ ملتا، اب یہ سب کچھ کرنے کے بعد جو مجھے ڈگری عطا ہوئی ہے، اس کی حیثیت کیا ہے؟ اور اس ڈگری کی وجہ سے جو آمدنی ہو رہی ہے اس کی حیثیت کیا ہے؟ آیا حرام کمائی میں شمار ہوگا یا حلال کمائی کہلائے گی؟ آپ مجھے آگاہ کریں کہ آیا میری کمائی جو ڈاکٹری کے پیشے سے ہوئی ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟ تاکہ میں کچھ اور کام شروع کرکے اپنے اہل وعیال کو حلال کمائی کھلاسکوں۔
جواب:۔
آپ نے جو جھوٹے حلف نامے داخل کئے ان کا آپ پر وبال ہوا، جن سے توبہ لازم ہے، جھوٹی قسم کھانا شدید ترین گناہ ہے،(۱) اس کے لئے آپ اللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکر توبہ کریں۔ جہاں تک آپ کی ڈاکٹری کا تعلق ہے، اگر آپ نے ڈاکٹری کا اِمتحان پاس کیا ہے، اور اس میں کوئی گھپلا نہیں کیا، اور آپ میں صحیح طور پر ڈاکٹر کی اِستعداد موجود ہے، تو آپ کا یہ ڈاکٹری کا پیشہ جائز ہے۔
- (۱) الکبائر: الْإشراک باللہ وعقوق الوالدین ۔۔۔ والیمین الغموس۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷، باب الکبائر)۔

