بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

دھمکیوں‌کے‌ذریعے‌صنعت‌کاروں‌سے‌زیادہ‌مراعات‌لینا

سوال:۔

آج کل ٹریڈ یونینوں کا زمانہ ہے، اور ملازمین (بڑے اداروں کے) اپنے جائز اور ناجائز مطالبات بلیک میل کرکے منوالیتے ہیں۔ اگر صنعت کار، تاجر وغیرہ ان کے مطالبات نہ مانیں تو ان کا کاروبار بند ہوجاتا ہے۔ قرآن و سنت کے نقطۂ نظر سے یہ بتائیں کہ بلیک میلنگ اور دھمکیوں سے بے شمار مراعات حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیا وہ حرام کے زُمرے میں نہیں آتیں؟

جواب:۔

ناجائز خواہ مزدوروں کی طرف سے ہو یا مالکان کی طرف سے، وہ تو ناجائز ہے۔ اصل خرابی یہ ہے کہ ہم میں نہ تو محاسبۂ آخرت کی فکر باقی رہی ہے، نہ حلال و حرام کا امتیاز۔ مزدور چاہتا ہے کہ اسے محنت نہ کرنی پڑے مگر اُجرت اسے دُگنی چوگنی ملنی چاہئے۔ کارخانہ دار یہ چاہتا ہے کہ مزدور کام کرتا رہے مگر اسے اُجرت نہ دینی پڑے۔ جس طرح کارخانہ دار کی طرف سے مزدور کی محنت کا معاوضہ ادا نہ کرنا حرام ہے، اسی طرح اگر مزدور ٹھیک کام نہیں کرتا یا زبردستی ناجائز مراعات حاصل کرتا ہے تو اس کی روزی بھی حرام ہے،(۱) اور قیامت کے دن اس کا محاسبہ بھی ہوگا کہ تم نے فلاں شخص کا کتنا کام کیا اور اس سے کتنی اُجرت وصول کی؟

  1. (۱) ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من اجرتہٖ بقدر ما عمل وقال أیضًا: نجار استؤجر إلی اللیل فعمل لآخر دواۃ بدرھم وھو یعلم فھو آثم وإن لم یعلم فلا شیء علیہ وینقص من أجر التجار بقدر ما عمل فی الدواۃ۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۷۰، أیضًا: ھدایۃ ج:۳ ص:۳۱۰، کتاب الْإجارات، باب ضمان الأجیر)۔