بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

کسی‌مشتبہ‌شخص‌کو‌ہتھیار‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

جو شخص گناہ کی نیت سے مال خریدنا چاہے، مثلاً: اسمگلنگ کے لئے کپڑا وغیرہ، یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے کوئی ہتھیار خریدنا چاہے تو دُکان دار کو ایسی اشیاء فروخت کرنے پر جو منافع ہوگا وہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

کسی ایسے شخص کو ہتھیار دینا جس کے بارے میں یقین ہو کہ یہ کسی کو ناحق قتل کرے گا، یہ تو جائز نہیں، بیچنے والا بھی گنہگار ہوگا، لیکن بیع صحیح ہے۔(۱)

  1. (۱) ویکرہ بیع السلاح فی أیام الفتنۃ معناہ ممن یعرف أنہ من أھل الفتنۃ لأنّہ تسبّب إلی المعصیۃ۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۴۷۰)۔ أیضًا: والقسم الثانی من السبب القریب أعنی ما لم یکن محرکًا وباعثًا بل موصلًا محضًا فحرمتہ وإن لم تکن منصوصۃ ولٰـکنہ داخل فیہ باشتراک العلۃ، وھی الْإفضاء إلی الشر والمعصیۃ ولھٰذا أطلق الفقھاء رحمھم اللہ علیھا لفظ کراھۃ التحریم، لَا الحرمۃ ۔۔۔ ومن ھٰذا القبیل بیع الأسلحۃ لأھل الفتنۃ وأھل الحرب فإنہ سبب قریب وصورۃ إعانۃ للمعصیۃ ۔۔۔إلخ۔ (جواھر الفقہ، تفصیل الکلام فی مسئلۃ الْإعانۃ علی الحرام ج:۲ ص:۴۵۱)۔