بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

سرکاری‌گوداموں‌سے‌چوری‌کی‌ہوئی‌گندم‌خریدنا،‌نیز‌یہ‌گندم‌لادنے،‌پیسنے‌کی‌مزدوری‌کرنا

سوال:۔

میں ایک پرائیویٹ فلورمل میں ملازم ہوں، میری ڈیوٹی گندم کے ان سرکاری گوداموں پر ہے جو فلورملوں کو اپنے کوٹے کے مطابق گندم فراہم کرتے ہیں۔ محترم مفتی صاحب! ان سرکاری گوداموں سے ہم جس وقت ملوں کو گندم فراہم کرتے ہیں تو گودام کا اے ایف سی جو کہ سرکاری ملازم ہے، ہر گاڑی کو وزن کرتے وقت چالیس سے ساٹھ ستر کلوگرام تک گندم کاٹتا ہے، اس بات کا علم تمام مل مالکان کو ہے، اور وہ اس بات پر تقریباً راضی بھی ہیں۔ دُوسری بات یہ ہے کہ ان سرکاری گوداموں سے اے ایف سی حضرات چوری چھپے کئی کئی ٹرک گندم پرائیویٹ ریٹ پر ملوں کو فراہم کرتے ہیں، اور یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرنے کی بجائے سرکاری اہلکار آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔ اب جناب سے اس مضمون کی مناسبت سے چند مسائل لکھ رہا ہوں، اُمید ہے تفصیلی جوابات عنایت فرمائیں گے۔

کیا مل مالکان ان سرکاری ملازموں سے جو چوری چھپے گندم بیچتے ہیں، پرائیویٹ ریٹ پر یہ گندم خرید کرسکتے ہیں؟

سوال:۔

مل مالکان اگر اس گندم کو خرید کر مل میں پسائی کرکے آٹے کی صورت میں بیچیں تو کیا ان کی یہ کمائی حلال ہے یا حرام؟

سوال:۔

میں بحیثیت مل ملازم اس گندم کو گاڑیوں میں لوڈ کرکے وزن کراکر مل کو سپلائی کرتا ہوں، مجھے مل سے ماہانہ صرف اپنی تنخواہ ملتی ہے، یا بعض ملازمین کو فی لوڈ اپنا کمیشن ملتا ہے، کیا ہمارے لئے یہ تنخواہ یا کمیشن حلال ہوا یا حرام؟

سوال:۔

جو گاڑیاں اس گندم کو لوڈ کرکے ملوں کو پہنچاتی ہیں اور فی لوڈ اپنا کرایہ وصول کرتی ہیں، کیا ان کے لئے یہ کرایہ حلال ہے یا حرام؟

سوال:۔

جو مزدور اس گندم کو لوڈ کرتے ہیں اور پھر ملوں میں اُتارتے ہیں، یہ لوگ فی بوری اپنا کمیشن لیتے ہیں، کیا یہ کمیشن ان کے لئے حلال ہے یا حرام؟

جواب:۔

یہ تو ظاہر ہے کہ سرکاری ملازمین محض گورنمنٹ کے نمائندے ہیں، لہٰذا ان کا سرکاری گوداموں کے غلے کو چوری چھپے بیچ دینا جائز نہیں، اور نہ مل والوں کو چوری کا مال خریدنا جائز ہے۔(۱) یہ لوگ معمولی منفعت کے لئے اپنی روزی میں حرام ملاتے ہیں اور اپنی آخرت تباہ کرتے ہیں۔ چور کی سزا شریعت نے ہاتھ کاٹنا رکھی ہے،(۲) جب ان کے گناہ پر ان کو سزائیں ملیں گی تو اس وقت کوئی ان کا پُرسانِ حال نہیں ہوگا، اور جو مل مالکان اس خیانت میں شریک ہیں، ان کو بھی برابر سزا ملے گی۔

جواب:۔

اگر مل مالکان کو یہ علم ہے کہ یہ چوری کا مال ہے، تو ان کے لئے نہ پیسنا حلال ہے، نہ اس کی اُجرت حلال ہے۔(۳)

جواب:۔

اگر آپ کے علم میں ہے کہ یہ چوری کا مال گاڑی پر لادا جارہا ہے، تو آپ بھی شریکِ جرم ہیں، اور قیامت کے دن اس کے محاسبہ سے بری الذمی نہیں ہوسکتے۔(۴)

جواب:۔

اگر معلوم ہے کہ یہ حرام کا غلہ ہے تو گاڑی والوں کے لئے اس کا اُٹھانا بھی حلال نہیں، اور اگر ان کو معلوم نہیں کہ یہ چوری کا مال ہے تو معذور ہیں۔(۵)

جواب:۔

اس کا حکم بھی وہی ہے کہ وہ چوری کا مال گاڑی پر اُٹھارہے ہیں یا اُتار رہے ہیں، تو وہ بھی شریکِ جرم ہیں، ورنہ لاعلمی کی بنا پر وہ معذور ہیں۔(۶)

  1. (۱) قال علیہ السلام: من اشتریٰ سرقۃ وھو یعلم انھا سرقۃ فقد شرک فی عارھا وإثمھا۔ (فیض القدیر ج:۱ ص:۵۶۵۴، رقم الحدیث:۸۴۴۳، طبع مکتبۃ الباز)۔ أیضًا: قال القرضاوی: لم یحل للمسلم ان یشتری شیئًا یعلم أنہ مغصوب أو مسروق أو مأخوذ من صاحبہ بغیر حق، لأنہ إذا فعل یعین الغاصب أو السارق أو المعتمد علٰی غصبہ وسرقتہ وعداوتہ قال رسول اللہ صلیی اللہ علیہ وسلم: من اشتری سرقۃ (أی مسروقًا) وھو یعلم أنھا سرقۃ، فقد أشرک فی إثمھا وعارھا، البیھقی۔ (الحلال والحرام فی الْإسلام، لشیخ یوسف القرضاوی ص:۲۱۶، طبع المکتب الْإسلامی)۔ بیع المسروق: إذا علم المشتری أن المبیع مسروق یحرم علیہ شراؤہ لأن فیہ إعانۃ الظالم علٰی ظلمہ۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ، البیوع المنھی عنھا ج:۲ ص:۴۸)۔ الحرمۃ ینتقل أی تنتقل حرمتہ وإن تداولتہ الأیدی وتبدلت الأملاک۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۹۸)۔ وفیہ أیضًا: لو رأی المکاس مثلًا یأخذ من أحد شیئًا من المکس ثم یعطیہ آخر ثم یأخذ من ذالک الآخر فھو حرام۔ (ج:۵ ص:۹۸ مطلب الحرمۃ تتعدد)۔
  2. (۲) قَالَ تَعَالَىﵟ ٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقۡطَعُوٓاْ أَيۡدِيَهُمَا جَزَآءَۢ بِمَا كَسَبَا نَكَٰلٗا مِّنَ ٱللَّهِۗ ﵞ المائدة ٣٨۔
  3. (۳) حاشیہ گذشتہ: قال علیہ السلام: من اشتریٰ سرقۃ ...الخ
  4. (۴) ایضاً۔
  5. (۵)حاشیہ گذشتہ: قال علیہ السلام: من اشتریٰ سرقۃ ...الخ
  6. (۶) حاشیہ گذشتہ: قال علیہ السلام: من اشتریٰ سرقۃ ...الخ